حزقی ایل 2

2
حزقی ایل کو پیامِ نبُوّت
1اُنہُوں نے مُجھ سے کہا، ”اَے آدمؔ زاد، اَپنے پاؤں پر کھڑا ہو جا تاکہ مَیں تُجھ سے بات کر سکوں۔“ 2جوں ہی اُنہُوں نے یہ کہا رُوح مُجھ میں سما گئی اَور مُجھے اَپنے پاؤں پر کھڑا کیا اَور مَیں نے اُسے مُجھ سے بولتے ہُوئے سُنا۔
3اُنہُوں نے کہا: ”اَے آدَمزاد، مَیں تُجھے بنی اِسرائیل کے پاس بھیج رہا ہُوں جو اَیسی ضِدّی قوم ہے جِس نے مُجھ سے بغاوت کی ہے۔ وہ اَور اُن کے آباؤاَجداد آج کے دِن تک میری نافرمانی کرتے آئے ہیں۔ 4جِن کے پاس مَیں تُجھے بھیج رہا ہُوں وہ نہایت بے حیا اَور سنگدل لوگ ہیں۔ اُن سے کہنا ’یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں۔‘ 5ایک سرکش قوم ہونے کے باعث وہ سُنیں یا نہ سُنیں پھر بھی وہ جان لیں گے کہ اُن کے درمیان ایک نبی برپا ہُواہے۔ 6اَور تُم اَے آدَمزاد اُن کا یا اُن کی باتوں کا خوف نہ کرنا حالانکہ تُو جھاڑیوں اَور اُونٹ کٹاروں سے گھِرا ہُواہے اَور بِچھُّوؤں کے درمیان رہتاہے پھر بھی تُو نہ ڈرنا حالانکہ وہ ایک ضِدّی قوم ہیں تو بھی تُو اُن کی باتوں سے یا خُود اُن سے مت ڈرنا۔ 7تُو میرا کلام اُن کو سُنانا خواہ وہ سُنیں یا نہ سُنیں کیونکہ وہ سرکش ہو چُکے ہیں۔ 8لیکن تُو اَے آدَمزاد، جو کچھ میں کہتا ہُوں اُسے سُن اَور اُس سرکش خاندان کی طرح سرکشی نہ کر۔ اَپنا مُنہ کھول اَورجو کچھ مَیں تُجھے دے رہا ہُوں اُسے کھالے۔“
9تَب مَیں نے دیکھا کہ ایک ہاتھ میری طرف بڑھا ہے جِس میں ایک طُومار تھا، 10جسے اُس نے میرے سامنے پھیلا دیا۔ اُس کے دونوں طرف نوحہ، ماتم اَور افسوس ناک الفاظ مرقوم تھے۔

موجودہ انتخاب:

حزقی ایل 2: UCV

سرخی

شئیر

کاپی

None

کیا آپ جاہتے ہیں کہ آپ کی سرکیاں آپ کی devices پر محفوظ ہوں؟ Sign up or sign in