2 شموایلؔ 14
14
اَبشالومؔ کا یروشلیمؔ کو واپسی
1یُوآبؔ بِن ضرویاہؔ کو محسُوس ہُوا کہ بادشاہ کا دِل اَبشالومؔ کا متمنّی ہے 2اِس لیٔے یُوآبؔ نے کسی کو تقوعؔ بھیج کر وہاں سے ایک چالاک عورت کو بُلوایا اَور اُس سے کہا، ”تُو ایک سوگ منانے والی عورت کا بھیس بدل کر ماتمی کپڑے پہن لے اَور کسی طرح کا بناؤ سنگار کئے بغیر ایک اَیسی عورت کی طرح اداکاری کرنا جو بہت دِنوں سے کسی عزیز کی موت کا ماتم کر رہی ہو۔ 3اَور پھر بادشاہ کے پاس جا کر یہ باتیں کہنا جو میں بتا رہا ہُوں۔“ اَور یُوآبؔ نے وہ باتیں اُسے سِکھا دیں
4اَور جَب تقوعؔ کی وہ عورت بادشاہ کے پاس گئی تو اُن کی تعظیم کے لیٔے مُنہ کے بَل زمین پر گری اَور کہا، ”اَے بادشاہ! میری مدد کرو!“
5بادشاہ نے اُس سے کہا، ”تُو کس بات سے پریشان ہے؟“
اُس نے کہا، ”درحقیقت میں ایک بِیوہ ہُوں؛ میرا خَاوند مَر چُکاہے۔ 6آپ کی خادِمہ کے دو بیٹے تھے۔ وہ کھیت میں ایک دُوسرے سے لڑنے لگے اَور وہاں اُنہیں چھُڑانے والا کویٔی نہ تھا۔ ایک نے دُوسرے کو اِتنا مارا کہ وہ مَر گیا۔ 7اَور اَب برادری کے سارے لوگ آپ کی خادِمہ کے خِلاف اُٹھ کھڑے ہُوئے ہیں اَور کہتے ہیں کہ جِس نے اَپنے بھایٔی کو مارا ہے اُسے ہمارے حوالہ کرو تاکہ ہم اُسے اَپنے بھایٔی کی جان کے بدلے میں قتل کریں تاکہ کویٔی وارِث ہی نہ رہے۔ وہ اُس ایک اَنگارے کو بھی جو میرے پاس باقی بچ رہاہے، بُجھا دینا چاہتے ہیں تاکہ رُوئے زمین پر میرے خَاوند کا نام و نِشان باقی نہ رہے اَور اُس کی نَسل نابود ہو جائے۔“
8بادشاہ نے اُس عورت سے کہا، ”تُو گھر جا اَور مَیں تیری خاطِر ایک حُکم نامہ جاری کروں گا۔“
9لیکن تقوعؔ کی اُس عورت نے کہا، ”میرے آقا بادشاہ! سارا جُرم مُجھ پر اَور میرے باپ کے گھرانے پر ہی رہنے دیں۔ آپ پر اَور آپ کے تخت پر بے اِلزام ٹھہرے۔“
10بادشاہ نے جَواب دیا کہ، ”اگر کویٔی تُجھے کچھ کہے تو اُسے میرے پاس لے آنا اَور پھر وہ تُجھے تنگ نہیں کرےگا۔“
11اُس عورت نے کہا، ”بادشاہ سلامت! میری گزارش ہے کہ یَاہوِہ اَپنے خُدا سے اِلتجا کریں کہ خُون کا اِنتقام لینے والا مزید بربادی سے باز آئے اَور میرے بیٹے کو ہلاک نہ کرنے پایٔے۔“
اُس نے کہا، ”زندہ یَاہوِہ کی قَسم، تیرے بیٹے کا ایک بال بھی زمین پر نہیں گرنے پایٔےگا۔“
12تَب اُس عورت نے کہا، ”اِس خادِمہ کو اَپنے آقا بادشاہ سے ایک بات کہنے کی اِجازت ملے!“
اُنہُوں نے جَواب دیا، ”کہئے۔“
13اُس عورت نے کہا: ”پھر آپ نے خُدا کے لوگوں کے خِلاف اَیسی تدبیر کیوں کی ہے؟ جَب بادشاہ یہ کہتاہے تو کیا وہ اَپنے آپ کو مُجرم نہیں ٹھہراتا کیونکہ بادشاہ اَپنے جَلاوطن بیٹے کو واپس نہیں لایا؟ 14جَیسے زمین پر گِرے ہُوئے پانی کو دوبارہ جمع نہیں کیا جا سَکتا وَیسے ہی ہمیں موت کے مُنہ میں چلے جاناہے۔ لیکن خُدا کسی کی جان نہیں لیتا بَلکہ اُس کی بجائے وہ اَیسے وسائل پیدا کر دیتاہے کہ جَلاوطن کیا ہُوا شخص بھی اُس سے دُور نہ رہے۔
15”چونکہ لوگوں نے مُجھے ڈرا دیا تھا اِس لیٔے میں اَپنے آقا بادشاہ کو یہ کہنے آئی اَور اِس خادِمہ نے سوچا، ’میں بادشاہ سے عرض کروں گی، شاید بادشاہ اَپنی خادِمہ کی عرض پُوری کر دیں۔ 16اَور شاید بادشاہ اَپنی خادِمہ کو اُس آدمی کے ہاتھ سے چھُڑانے کے لیٔے رضامند ہو جائیں جو مُجھے اَور میرے بیٹے دونوں کو اُس مِیراث سے جو خُدا نے ہمیں بخشی ہے خارج کرنے کی کوشش کر رہاہے۔‘
17”اَور اَب آپ کی خادِمہ کو اُمّید ہے، ’میرے آقا بادشاہ کی بات مُجھے سکون بخشے گی کیونکہ میرا مالک بادشاہ نیکی اَور بدی کے اِمتیاز میں خُدا کے فرشتہ کی مانند ہے۔ یَاہوِہ آپ کے خُدا آپ کے ساتھ ہُوں۔‘ “
18تَب بادشاہ نے اُس عورت سے کہا، ”جو کچھ مَیں تُجھ سے پُوچھنے والا ہُوں صَاف صَاف بتانا اَور مُجھ سے کچھ مت چھُپانا۔“
عورت نے کہا، ”میرا آقا بادشاہ فرمائیں!“
19تَب بادشاہ نے کہا، ”تُجھے یہ سَب کچھ یُوآبؔ نے سِکھا کر بھیجا ہے، ہے نا؟“
عورت نے جَواب دیا: ”آپ کے جان کی قَسم اَے میرے آقا بادشاہ، اِن باتوں سے جو میرے مالک بادشاہ نے فرمائی ہیں کون اِنکار کر سَکتا ہے! ہاں یہ آپ کا خادِم یُوآبؔ ہی تھا جِس نے مُجھے اَیسا کرنے کا حُکم دیا اَور مُجھے پٹّی پڑھا کر بھیجا۔ 20آپ کے خادِم یُوآبؔ نے مَوجُودہ صورت حال کو بدلنے کے لیٔے اَیسا کیا۔ میرا آقا بادشاہ یَاہوِہ کے فرشتہ کی طرح دانشمند ہے جو مُلک میں ہونے والی ہر بات کو جانتا ہے۔“
21تَب بادشاہ نے یُوآبؔ سے کہا، ”ٹھیک! مَیں نے تیری بات مان لی لہٰذا جا اَور اُس جَوان اَبشالومؔ کو واپس لے آ۔“
22یُوآبؔ نے مُنہ کے بَل زمین پر گِر کر اُسے سَجدہ کیا اَور بادشاہ کو مُبارکباد دی۔ یُوآبؔ کہنے لگا، ”اَے میرے آقا بادشاہ، آج مُجھے یقین ہو گیا کہ مُجھ پر آپ کی نظرِکرم ہے کیونکہ بادشاہ نے اَپنے خادِم کی درخواست قبُول فرمائی ہے۔“
23پھر یُوآبؔ گیشُور گیا اَور اَبشالومؔ کو واپس یروشلیمؔ لے آیا۔ 24لیکن بادشاہ نے فرمایا، ”وہ سیدھا اَپنے گھر جائے اَور میرا مُنہ نہ دیکھے۔“ لہٰذا اَبشالومؔ اَپنے گھر چلا گیا اَور بادشاہ کا مُنہ تک نہ دیکھ پایا۔
25اَبشالومؔ اِتنا حسین تھا کہ سارے اِسرائیل میں اُس کا کویٔی ثانی نہ تھا۔ اُس میں سَر سے پاؤں تک کویٔی بھی عیب نہ تھا۔ 26اُس کے سَر کے بال اِتنے گھنے تھے کہ وہ اُنہیں ہر سال منڈوایا کرتا تھا اَور جَب اُن کا وزن کرتا تھا تو وہ شاہی تول کے مُطابق دو سَو ثاقل#14:26 دو سَو ثاقل تقریباً سَوا دو کِلوگرام ہوتا تھا۔
27اَور اَبشالومؔ سے تین بیٹے پیدا ہُوئے اَور ایک بیٹی۔ بیٹی کا نام تامارؔ تھا اَور وہ بڑی خُوبصورت عورت تھی۔
28اَبشالومؔ پُورے دو سال یروشلیمؔ میں رہا لیکن اُسے بادشاہ کا مُنہ دیکھنا نصیب نہ ہُوا۔ 29پھر اَبشالومؔ نے یُوآبؔ کو بُلوایا تاکہ اُسے بادشاہ کے پاس بھیجے۔ لیکن یُوآبؔ نے اُس کے پاس آنے سے اِنکار کر دیا۔ اُس نے دوبارہ بُلوایا لیکن وہ نہ آیا۔ 30تَب اُس نے اَپنے خادِموں سے کہا: ”دیکھو میرے کھیت کے بعد یُوآبؔ کا کھیت ہے اَور اُس میں اُس کے جَو ہیں۔ جاؤ اَور اُس میں آگ لگا دو۔“ لہٰذا اَبشالومؔ کے خادِموں نے کھیت میں آگ لگا دی۔
31تَب یُوآبؔ اَبشالومؔ کے گھر گیا اَور اُس سے کہا، ”تیرے خادِموں نے میرے کھیت میں آگ کیوں لگائی ہے؟“
32اَبشالومؔ نے یُوآبؔ سے کہا، ”دیکھ، مَیں نے تُجھے پیغام بھیج کر بُلا لیا تھا، ’تاکہ مَیں تُجھے بادشاہ کے پاس یہ پُوچھنے کے لیٔے بھیج سکوں، ”مُجھے گیشُور سے یہاں کس لیٔے لایا گیا ہے؟ میرے لیٔے تو یہی بہتر تھا کہ مَیں ابھی تک وہیں رہتا!“ ‘ اَب مَیں بادشاہ کا مُنہ دیکھنا چاہتا ہُوں اَور اگر مَیں کسی بات کے لیٔے قُصُوروار ہُوں تو وہ مُجھے مار ڈالے۔“
33پس یُوآبؔ بادشاہ کے پاس گیا اَور اُسے یہ بات بتایٔی۔ تَب بادشاہ نے اَبشالومؔ کو طلب کیا۔ وہ آیا اَور بادشاہ کے سامنے مُنہ کے بَل زمین پر جھُکا اَور بادشاہ نے اَبشالومؔ کا مُنہ چُوم لیا۔
موجودہ انتخاب:
2 شموایلؔ 14: UCV
سرخی
شئیر
کاپی

کیا آپ جاہتے ہیں کہ آپ کی سرکیاں آپ کی devices پر محفوظ ہوں؟ Sign up or sign in
اُردو ہم عصر ترجُمہ™، کِتاب مُقدّس
حق اِشاعت © 1999، 2005، 2022، 2024 Biblica, Inc.
کی اِجازت سے اِستعمال کیا جاتا ہے۔
دُنیا بھر میں تمام حق محفوظ۔
Holy Bible, Urdu Contemporary Version™
Copyright © 1999, 2005, 2022, 2024 by Biblica, Inc.
Used with permission.
All rights reserved worldwide.