رومیوں 9:4-18
رومیوں 9:4-18 اُردو ہم عصر ترجُمہ (UCV)
کیا یہ مُبارکبادی صِرف اُن کے لیٔے ہے جِن کا ختنہ ہو چُکاہے یا اُن کے لیٔے بھی ہے جِن کا ختنہ نہیں ہُوا؟ کیونکہ ہم کہتے آئے ہیں کہ حضرت اَبراہامؔ کا ایمان اُن کے واسطے راستبازی شُمار کیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ وہ کِس حالت میں راستباز گِنا گیا۔ ختنہ کرانے سے پہلے یا ختنہ کرانے کے بعد؟ یہ اُس کے ختنہ کرانے سے پہلے کی بات تھی نہ کہ بعد کی۔ جَب حضرت اَبراہامؔ کا ختنہ نہیں ہُوا تھا، خُدا نے اُس کے ایمان کے سبب سے اُسے راستباز ٹھہرایا تھا۔ بعد میں اُس نے ختنہ کا نِشان پایا جو اُس کی راستبازی پر گویا خُدا کی مُہر تھی۔ یُوں حضرت اَبراہامؔ سَب کا باپ ٹھہرے جِن کا ختنہ تو نہیں ہُوا مگر وہ ایمان لانے کے باعث راستباز گنے جاتے ہیں۔ اَور وہ اُن کا بھی باپ ٹھہرتا ہے جِن کا ختنہ ہو چُکاہے اَور یہی نہیں بَلکہ وہ ہمارے باپ حضرت اَبراہامؔ کے اُس ایمان کی پیروی کرتے ہیں جو اُسے اُس کے ختنہ سے پہلے ہی حاصل تھا۔ یہ وعدہ جو حضرت اَبراہامؔ اَور اُن کی نَسل سے کیا گیا تھا کہ وہ دُنیا کے وارِث ہوں گے، شَریعت پر عَمل کرنے کی بِنا پر نہیں بَلکہ اُن کے ایمان کی راستبازی کے وسیلے سے کیا گیا تھا۔ کیونکہ اگر اہلِ شَریعت ہی دُنیا کے وارِث ٹھہرائے جاتے تو ایمان کا کویٔی مطلب ہی نہ ہوتا اَور خُدا کا وعدہ بھی فُضول ٹھہرتا۔ بات یہ ہے کہ جہاں شَریعت ہے وہاں غضب بھی ہے اَور جہاں شَریعت نہیں وہاں شَریعت کا عُدول بھی نہیں۔ چنانچہ یہ وعدہ ایمان کی بِنا پر دیا جاتا ہے تاکہ بطور فضل سمجھا جائے اَور حضرت اَبراہامؔ کی کل نَسل کے لیٔے ہو، صِرف اُن ہی کے لیٔے نہیں جو اہلِ شَریعت ہیں بَلکہ اُن کے لیٔے بھی جو ایمان لانے کے لِحاظ سے اُس کی نَسل ہیں کیونکہ حضرت اَبراہامؔ ہم سَب کے باپ ہیں۔ جَیسا کہ کِتاب مُقدّس میں لِکھّا ہے: ”مَیں نے تُمہیں بہت سِی قوموں کا باپ مُقرّر کیا ہے۔“ وہ اُس خُدا کی نگاہ میں ہمارا باپ ہے جِس پر وہ ایمان لایا۔ وہ خُدا جو مُردوں کو زندہ کرتا ہے اَور غَیر مَوجُود اَشیا کو یُوں بُلا لیتا ہے گویا وہ مَوجُود ہیں۔ حضرت اَبراہامؔ نااُمّیدی کی حالت میں بھی اُمّید کے ساتھ ایمان لایٔے اَور بہت سِی قوموں کا باپ مُقرّر کیٔے گیٔے جَیسا کہ اُن سے کہا گیا تھا، ”تمہاری نَسل اَیسی ہی ہوگی۔“
رومیوں 9:4-18 ہولی بائبل کا اردو جیو ورژن (URDGVU)
کیا یہ مبارک بادی صرف مختونوں کے لئے ہے یا نامختونوں کے لئے بھی؟ ہم تو بیان کر چکے ہیں کہ ابراہیم ایمان کی بنا پر راست باز ٹھہرا۔ اُسے کس حالت میں راست باز ٹھہرایا گیا؟ ختنہ کرانے کے بعد یا پہلے؟ ختنے کے بعد نہیں بلکہ پہلے۔ اور ختنہ کا جو نشان اُسے ملا وہ اُس کی راست بازی کی مُہر تھی، وہ راست بازی جو اُسے ختنہ کرانے سے پیشتر ملی، اُس وقت جب وہ ایمان لایا۔ یوں وہ اُن سب کا باپ ہے جو بغیر ختنہ کرائے ایمان لائے ہیں اور اِس بنا پر راست باز ٹھہرتے ہیں۔ ساتھ ہی وہ ختنہ کرانے والوں کا باپ بھی ہے، لیکن اُن کا جن کا نہ صرف ختنہ ہوا ہے بلکہ جو ہمارے باپ ابراہیم کے اُس ایمان کے نقشِ قدم پر چلتے ہیں جو وہ ختنہ کرانے سے پیشتر رکھتا تھا۔ جب اللہ نے ابراہیم اور اُس کی اولاد سے وعدہ کیا کہ وہ دنیا کا وارث ہو گا تو اُس نے یہ اِس لئے نہیں کیا کہ ابراہیم نے شریعت کی پیروی کی بلکہ اِس لئے کہ وہ ایمان لایا اور یوں راست باز ٹھہرایا گیا۔ کیونکہ اگر وہ وارث ہیں جو شریعت کے پیروکار ہیں تو پھر ایمان بےاثر ٹھہرا اور اللہ کا وعدہ مٹ گیا۔ شریعت اللہ کا غضب ہی پیدا کرتی ہے۔ لیکن جہاں کوئی شریعت نہیں وہاں اُس کی خلاف ورزی بھی نہیں۔ چنانچہ یہ میراث ایمان سے ملتی ہے تاکہ اِس کی بنیاد اللہ کا فضل ہو اور اِس کا وعدہ ابراہیم کی تمام نسل کے لئے ہو، نہ صرف شریعت کے پیروکاروں کے لئے بلکہ اُن کے لئے بھی جو ابراہیم کا سا ایمان رکھتے ہیں۔ یہی ہم سب کا باپ ہے۔ یوں اللہ کلامِ مُقدّس میں اُس سے وعدہ کرتا ہے، ”مَیں نے تجھے بہت قوموں کا باپ بنا دیا ہے۔“ اللہ ہی کے نزدیک ابراہیم ہم سب کا باپ ہے۔ کیونکہ اُس کا ایمان اُس خدا پر تھا جو مُردوں کو زندہ کرتا اور جس کے حکم پر وہ کچھ پیدا ہوتا ہے جو پہلے نہیں تھا۔ اُمید کی کوئی کرن دکھائی نہیں دیتی تھی، پھر بھی ابراہیم اُمید کے ساتھ ایمان رکھتا رہا کہ مَیں ضرور بہت قوموں کا باپ بنوں گا۔ اور آخرکار ایسا ہی ہوا، جیسا کلامِ مُقدّس میں وعدہ کیا گیا تھا کہ ”تیری اولاد اِتنی ہی بےشمار ہو گی۔“
رومیوں 9:4-18 کِتابِ مُقادّس (URD)
پس کیا یہ مُبارک بادی مختُونوں ہی کے لِئے ہے یا نامختُونوں کے لِئے بھی؟ کیونکہ ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ ابرہامؔ کے لِئے اُس کا اِیمان راست بازی گِنا گیا۔ پس کِس حالت میں گِنا گیا؟ مختُونی میں یا نامختُونی میں؟ مختُونی میں نہیں بلکہ نامختُونی میں۔ اور اُس نے خَتنہ کا نِشان پایا کہ اُس اِیمان کی راست بازی پر مُہر ہو جائے جو اُسے نامختُونی کی حالت میں حاصِل تھا تاکہ وہ اُن سب کا باپ ٹھہرے جو باوُجُود نامختُون ہونے کے اِیمان لاتے ہیں اور اُن کے لِئے بھی راست بازی محسُوب کی جائے۔ اور اُن مختُونوں کا باپ ہو جو نہ صِرف مختُون ہیں بلکہ ہمارے باپ ابرہامؔ کے اُس اِیمان کی بھی پیرَوی کرتے ہیں جو اُسے نامختُونی کی حالت میں حاصِل تھا۔ کیونکہ یہ وعدہ کہ وہ دُنیا کا وارِث ہو گا نہ ابرہامؔ سے نہ اُس کی نسل سے شرِیعت کے وسِیلہ سے کِیا گیا تھا بلکہ اِیمان کی راست بازی کے وسِیلہ سے۔ کیونکہ اگر شرِیعت والے ہی وارِث ہوں تو اِیمان بے فائِدہ رہا اور وعدہ لاحاصِل ٹھہرا۔ کیونکہ شرِیعت تو غَضب پَیدا کرتی ہے اور جہاں شرِیعت نہیں وہاں عدُول حُکمی بھی نہیں۔ اِسی واسطے وہ مِیراث اِیمان سے مِلتی ہے تاکہ فضل کے طَور پر ہو اور وہ وعدہ کُل نسل کے لِئے قائِم رہے۔ نہ صِرف اُس نسل کے لِئے جو شرِیعت والی ہے بلکہ اُس کے لِئے بھی جو ابرہامؔ کی مانِند اِیمان والی ہے۔ وُہی ہم سب کا باپ ہے۔ (چُنانچہ لِکھا ہے کہ مَیں نے تُجھے بُہت سی قَوموں کا باپ بنایا) اُس خُدا کے سامنے جِس پر وہ اِیمان لایا اور جو مُردوں کو زِندہ کرتا ہے اور جو چِیزیں نہیں ہیں اُن کو اِس طرح بُلا لیتا ہے کہ گویا وہ ہیں۔ وہ نااُمّیدی کی حالت میں اُمّید کے ساتھ اِیمان لایا تاکہ اِس قَول کے مُطابِق کہ تیری نسل اَیسی ہی ہو گی وہ بُہت سی قَوموں کا باپ ہو۔