زبُور 1:78-39

زبُور 1:78-39 URD

اَے میرے لوگو! میری شرِیعت کو سُنو۔ میرے مُنہ کی باتوں پر کان لگاؤ۔ مَیں تمثِیل میں کلام کرُوں گا اور قدِیم مُعمّے کہُوں گا۔ جِن کو ہم نے سُنا اور جان لِیا اور ہمارے باپ دادا نے ہم کو بتایا اور جِن کو ہم اُن کی اَولاد سے پوشِیدہ نہیں رکھّیں گے بلکہ آیندہ پُشت کو بھی خُداوند کی تعرِیف اور اُس کی قُدرت اور عجائِب جو اُس نے کِئے بتائیں گے۔ کیونکہ اُس نے یعقُوب میں ایک شہادت قائِم کی اور اِسرائیل میں شرِیعت مقرّر کی جِن کی بابت اُس نے ہمارے باپ دادا کو حُکم دِیا کہ وہ اپنی اَولاد کو اُن کی تعلِیم دیں۔ تاکہ آیندہ پُشت یعنی وہ فرزند جو پَیدا ہوں گے اُن کو جان لیں اور وہ بڑے ہو کر اپنی اَولاد کو سِکھائیں کہ وہ خُدا پر آس رکھّیں اور اُس کے کاموں کو بُھول نہ جائیں بلکہ اُس کے حُکموں پر عمل کریں اور اپنے باپ دادا کی طرح سرکش اور باغی نسل نہ بنیں۔ اَیسی نسل جِس نے اپنا دِل درُست نہ کِیا اور جِس کی رُوح خُدا کے حضُور وفادار نہ رہی۔ بنی اِفرائِیم مُسلّح ہو کر اور کمانیں رکھتے ہُوئے لڑائی کے دِن پِھر گئے۔ اُنہوں نے خُدا کے عہد کو قائِم نہ رکھّا اور اُس کی شرِیعت پر چلنے سے اِنکار کِیا اور اُس کے کاموں کو اور اُس کے عجائِب کو جو اُس نے اُن کو دِکھائے تھے بُھول گئے۔ اُس نے مُلکِ مِصرؔ میں۔ ضُعن کے عِلاقہ میں اُن کے باپ دادا کے سامنے عجِیب و غرِیب کام کِئے۔ اُس نے سمُندر کے دو حِصّے کر کے اُن کو پار اُتارا اور پانی کو تُودہ کی طرح کھڑا کر دِیا۔ اُس نے دِن کو بادل سے اُن کی راہبری کی اور رات بھر آگ کی رَوشنی سے۔ اُس نے بیابان میں چٹانوں کو چِیرا اور اُن کو گویا بحر سے خُوب پِلایا۔ اُس نے چٹان میں سے ندِیاں جاری کِیں اور دریاؤں کی طرح پانی بہایا۔ تَو بھی وہ اُس کے خِلاف گُناہ کرتے ہی گئے اور بیابان میں حق تعالیٰ سے سرکشی کرتے رہے اور اُنہوں نے اپنی خواہش کے مُطابِق کھانا مانگ کر اپنے دِل میں خُدا کو آزمایا بلکہ وہ خُدا کے خِلاف بکنے لگے اور کہا کیا خُدا بیابان میں دسترخوان بِچھا سکتا ہے؟ دیکھو! اُس نے چٹان کو مارا تو پانی پُھوٹ نِکلا اور ندِیاں بہنے لگِیں۔ کیا وہ روٹی بھی دے سکتا ہے؟ کیا وہ اپنے لوگوں کے لِئے گوشت مُہیّا کر دے گا؟ پس خُداوند سُن کر غضب ناک ہُؤا اور یعقُوب کے خِلاف آگ بھڑک اُٹھی اور اِسرائیل پر قہر ٹُوٹ پڑا۔ اِس لِئے کہ وہ خُدا پر اِیمان نہ لائے اور اُس کی نجات پر بھروسا نہ کِیا۔ تَو بھی اُس نے افلاک کو حُکم دِیا اور آسمان کے دروازے کھولے اور کھانے کے لِئے اُن پر مَنّ برسایا اور اُن کو آسمانی خُوراک بخشی۔ اِنسان نے فرِشتوں کی غِذا کھائی۔ اُس نے کھانا بھیج کر اُن کو آسُودہ کِیا۔ اُس نے آسمان میں پُروا چلائی اور اپنی قُدرت سے دکھنّا بہائی۔ اُس نے اُن پر گوشت کو خاک کی مانِند برسایا اور پرِندوں کو سمُندر کی ریت کی مانِند جِن کو اُس نے اُن کی خَیمہ گاہ میں اُن کے مسکنوں کے آس پاس گِرایا۔ پس وہ کھا کر خُوب سیر ہُوئے۔ اور اُس نے اُن کی خواہش پُوری کی۔ وہ اپنی خواہش سے باز نہ آئے اور اُن کا کھانا اُن کے مُنہ ہی میں تھا کہ خُدا کا غضب اُن پر ٹُوٹ پڑا اور اُن کے سب سے موٹے تازہ آدمی قتل کِئے اور اِسرائیلی جوانوں کو مار گِرایا۔ باوجُود اِن سب باتوں کے وہ گُناہ کرتے ہی رہے اور اُس کے عجِیب و غرِیب کاموں پر اِیمان نہ لائے۔ اِس لِئے اُس نے اُن کے دِنوں کو بطالت سے اور اُن کے برسوں کو دہشت سے تمام کر دِیا۔ جب وہ اُن کو قتل کرنے لگا تو وہ اُس کے طالِب ہُوئے اور رجُوع ہو کر دِل و جان سے خُدا کو ڈُھونڈنے لگے اور اُن کو یاد آیا کہ خُدا اُن کی چٹان اور حق تعالیٰ اُن کا فِدیہ دینے والا ہے۔ لیکن اُنہوں نے اپنے مُنہ سے اُس کی خُوشامد کی اور اپنی زُبان سے اُس سے جُھوٹ بولا کیونکہ اُن کا دِل اُس کے حضُور درُست نہ تھا اور وہ اُس کے عہد میں وفادار نہ نِکلے۔ لیکن وہ رحِیم ہو کر بدکاری مُعاف کرتا ہے اور ہلاک نہیں کرتا بلکہ بارہا اپنے قہر کو روک لیتا ہے اور اپنے پُورے غضب کو بھڑکنے نہیں دیتا اور اُسے یاد رہتا ہے کہ یہ محض بشر ہیں یعنی ہوا جو چلی جاتی ہے اور پِھر نہیں آتی۔