غزلُ الغزلات 1:4-7

غزلُ الغزلات 1:4-7 اُردو ہم عصر ترجُمہ (UCV)

اَے میری محبُوبہ تُم کتنی خُوبصورت ہو! دیکھ، تُم کتنی حسین ہو! حجاب کے پیچھے تمہاری آنکھیں جُڑواں کبُوتر کی مانند ہیں۔ اَور تمہارے بال بکریوں کے گلّہ کی مانند ہیں جو گویا کوہِ گِلعادؔ سے نیچے اُتر رہی ہُوں۔ تمہارے دانت بھیڑوں کے ایک اَیسے گلّہ کی مانند ہیں، جِن کے بال ابھی ابھی کترے گیٔے ہُوں اَورجو غُسل کرکے آ رہی ہُوں۔ جِن میں سَب جُڑواں بچّے ہیں؛ اَور اُن میں کویٔی بھی اکیلا نہیں ہے۔ تمہارے ہونٹ سُرخ لال فیتے کی مانند ہیں؛ اَور تمہارا مُنہ دلکش ہے۔ حجاب کے نیچے تمہارے گالوں کی جھلک انار کے ٹُکڑوں کی مانند دِکھائی دیتی ہے۔ اَور تمہاری گردن داویؔد کے تعمیر کَردہ بُرج کی مانند سیدھی ہے، جسے تراش کر بنایا گیا ہے؛ جِس پر ہزار سپریں لٹکی ہُوئی ہیں، اَور وہ سَب جنگجوؤں کی سپریں ہیں۔ تمہاری دونوں چھاتِیاں، کسی غزال کے جُڑواں بچّوں کی مانند ہیں جو شُوشنؔ کے پھُولوں کے درمیان چرتے ہیں۔ جَب تک کہ صُبح نہ ہو جائے اَور اَندھیرا غائب نہ ہو جایٔے، میں مُر کے پہاڑ اَور لوبان کے پہاڑی پر چڑھوں گا۔ اَے میری محبُوبہ، تُم سَب سے حسین ہو؛ تُم میں کویٔی نُقص نہیں ہے۔

دوسروں تک پہنچائیں
پڑھیں غزلُ الغزلات 4

غزلُ الغزلات 1:4-7 ہولی بائبل کا اردو جیو ورژن (URDGVU)

میری محبوبہ، تُو کتنی خوب صورت، کتنی حسین ہے! نقاب کے پیچھے تیری آنکھوں کی جھلک کبوتروں کی مانند ہے۔ تیرے بال اُن بکریوں کی مانند ہیں جو اُچھلتی کودتی کوہِ جِلعاد سے اُترتی ہیں۔ تیرے دانت ابھی ابھی کتری اور نہلائی ہوئی بھیڑوں جیسے سفید ہیں۔ ہر دانت کا جُڑواں ہے، ایک بھی گم نہیں ہوا۔ تیرے ہونٹ قرمزی رنگ کا ڈورا ہیں، تیرا منہ کتنا پیارا ہے۔ نقاب کے پیچھے تیرے گالوں کی جھلک انار کے ٹکڑوں کی مانند دکھائی دیتی ہے۔ تیری گردن داؤد کے بُرج جیسی دل رُبا ہے۔ جس طرح اِس گول اور مضبوط بُرج سے پہلوانوں کی ہزار ڈھالیں لٹکی ہیں اُس طرح تیری گردن بھی زیورات سے آراستہ ہے۔ تیری چھاتیاں سوسنوں میں چرنے والے غزال کے جُڑواں بچوں کی مانند ہیں۔ اِس سے پہلے کہ شام کی ہَوا چلے اور سائے لمبے ہو کر فرار ہو جائیں مَیں مُر کے پہاڑ اور بخور کی پہاڑی کے پاس چلوں گا۔ میری محبوبہ، تیرا حُسن کامل ہے، تجھ میں کوئی نقص نہیں ہے۔

دوسروں تک پہنچائیں
پڑھیں غزلُ الغزلات 4

غزلُ الغزلات 1:4-7 کِتابِ مُقادّس (URD)

دیکھ تُو خُوبرُو ہے اَے میری پِیاری! دیکھ تُو خُوب صُورت ہے۔ تیری آنکھیں تیرے نِقاب کے نِیچے دو کبُوتر ہیں۔ تیرے بال بکریوں کے گلّہ کی مانِند ہیں جو کوہِ جِلعاد پر بَیٹھی ہوں۔ تیرے دانت بھیڑوں کے گلّہ کی مانِند ہیں جِن کے بال کترے گئے ہوں اور جِن کو غُسل دِیا گیا ہو۔ جِن میں سے ہر ایک نے دو بچّے دِئے ہوں اور اُن میں ایک بھی بانجھ نہ ہو۔ تیرے ہونٹ قِرمزی ڈورے ہیں۔ تیرا مُنہ دِل فریب ہے۔ تیری کنپٹِیاں تیرے نِقاب کے نِیچے انار کے ٹُکڑوں کی مانِند ہیں۔ تیری گردن داؤُد کا بُرج ہے جو سِلاح خانہ کے لِئے بنا جِس پر ہزار سِپریں لٹکائی گئی ہیں۔ وہ سب کی سب پہلوانوں کی سِپریں ہیں۔ تیری دونوں چھاتِیاں دو تَواَم آہُو بچّے ہیں جو سوسنوں میں چَرتے ہیں۔ جب تک دِن ڈھلے اور سایہ بڑھے مَیں مُر کے پہاڑ اور لُبان کے ٹِیلے پر جا رہُوں گا۔ اَے میری پِیاری! تُو سراپا جمال ہے۔ تُجھ میں کوئی عَیب نہیں۔

دوسروں تک پہنچائیں
پڑھیں غزلُ الغزلات 4