رومیوں 1:10-11
رومیوں 1:10-11 اُردو ہم عصر ترجُمہ (UCV)
اَے بھائیو اَور بہنوں! اِسرائیلیوں کے لیٔے میری دِلی تمنّا اَور خُدا سے میری یہ دعا ہے کہ وہ نَجات پائیں۔ کیونکہ مَیں اُن کے بارے میں گواہی دیتا ہُوں کہ وہ خُدا کے لیٔے غیرت تو رکھتے ہیں لیکن دانائی کے ساتھ نہیں۔ چونکہ وہ خُدا کی راستبازی سے واقف نہ تھے بَلکہ خُود اَپنی راستبازی کو قائِم رکھنے کی کوشش کرتے رہے، اِس لیٔے وہ خُدا کی راستبازی کے تابع نہ ہویٔے۔ المسیح ہی شَریعت کی تکمیل ہیں کیونکہ وہ ہر ایمان لانے والے کو راستبازی عطا کرتے ہیں۔ حضرت مَوشہ نے اُس راستبازی کے بارے میں لِکھّا ہے جو شَریعت کے ذریعہ حاصل ہویٔی ہے: ”جو شخص شَریعت پر عَمل کرتا ہے وہ شَریعت کی وجہ سے زندہ رہے گا۔“ لیکن جو راستبازی ایمان سے ہے وہ یہ کہتی ہے: ”اَپنے دِل میں یُوں نہ کہہ کہ ہمارے لئے آسمان پر کون چڑھے گا؟“ یعنی المسیح کو نیچے لانے کے لیٔے ”یا، ’کون نیچے اتھاہ گڑھے میں اُترے گا؟‘ “ یعنی المسیح کو، مُردوں میں سے جی اُٹھنے سے اُوپر لانے کے لیٔے۔ لیکن اِس کا کیا مطلب ہے؟ یہ کہ کلام تمہارے پاس ہے؛ بَلکہ تمہارے ہونٹوں پر اَور تمہارے دِل میں ہے، یہ ایمان کا وُہی کلام ہے، جِس کی ہم مُنادی کرتے ہیں: اگر تُم اَپنی زبان سے یہ اقرار کرو، ”یِسوعؔ ہی خُداوؔند ہیں،“ اَور اَپنے دِل سے ایمان لاؤ کہ خُدا نے اُنہیں مُردوں میں سے زندہ کیا تو نَجات پاؤگے۔ کیونکہ راستبازی کے لیٔے اِنسان دِل سے ایمان لاتا ہے اَور زبان سے اقرار کرکے نَجات پاتاہے۔ جَیسا کہ صحیفہ بَیان کرتا ہے، ”جو کویٔی اُس پر ایمان لایٔے گا وہ کبھی شرمندہ نہ ہوگا۔“
رومیوں 1:10-11 ہولی بائبل کا اردو جیو ورژن (URDGVU)
بھائیو، میری دلی آرزو اور میری اللہ سے دعا یہ ہے کہ اسرائیلیوں کو نجات ملے۔ مَیں اِس کی تصدیق کر سکتا ہوں کہ وہ اللہ کی غیرت رکھتے ہیں۔ لیکن اِس غیرت کے پیچھے روحانی سمجھ نہیں ہوتی۔ وہ اُس راست بازی سے ناواقف رہے ہیں جو اللہ کی طرف سے ہے۔ اِس کی بجائے وہ اپنی ذاتی راست بازی قائم کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ یوں اُنہوں نے اپنے آپ کو اللہ کی راست بازی کے تابع نہیں کیا۔ کیونکہ مسیح میں شریعت کا مقصد پورا ہو گیا، ہاں وہ انجام تک پہنچ گئی ہے۔ چنانچہ جو بھی مسیح پر ایمان رکھتا ہے وہی راست باز ٹھہرتا ہے۔ موسیٰ نے اُس راست بازی کے بارے میں لکھا جو شریعت سے حاصل ہوتی ہے، ”جو شخص یوں کرے گا وہ جیتا رہے گا۔“ لیکن جو راست بازی ایمان سے حاصل ہوتی ہے وہ کہتی ہے، ”اپنے دل میں نہ کہنا کہ ’کون آسمان پر چڑھے گا؟‘ (تاکہ مسیح کو نیچے لے آئے)۔ یہ بھی نہ کہنا کہ ’کون پاتال میں اُترے گا؟‘ (تاکہ مسیح کو مُردوں میں سے واپس لے آئے)۔“ تو پھر کیا کرنا چاہئے؟ ایمان کی راست بازی فرماتی ہے، ”یہ کلام تیرے قریب بلکہ تیرے منہ اور دل میں موجود ہے۔“ کلام سے مراد ایمان کا وہ پیغام ہے جو ہم سناتے ہیں۔ یعنی یہ کہ اگر تُو اپنے منہ سے اقرار کرے کہ عیسیٰ خداوند ہے اور دل سے ایمان لائے کہ اللہ نے اُسے مُردوں میں سے زندہ کر دیا تو تجھے نجات ملے گی۔ کیونکہ جب ہم دل سے ایمان لاتے ہیں تو اللہ ہمیں راست باز قرار دیتا ہے، اور جب ہم اپنے منہ سے اقرار کرتے ہیں تو ہمیں نجات ملتی ہے۔ یوں کلامِ مُقدّس فرماتا ہے، ”جو بھی اُس پر ایمان لائے اُسے شرمندہ نہیں کیا جائے گا۔“
رومیوں 1:10-11 کِتابِ مُقادّس (URD)
اَے بھائِیو! میرے دِل کی آرزُو اور اُن کے لِئے خُدا سے میری دُعا یہ ہے کہ وہ نجات پائیں۔ کیونکہ مَیں اُن کا گواہ ہُوں کہ وہ خُدا کے بارے میں غَیرت تو رکھتے ہیں مگر سَمجھ کے ساتھ نہیں۔ اِس لِئے کہ وہ خُدا کی راست بازی سے ناواقِف ہو کر اور اپنی راست بازی قائِم کرنے کی کوشِش کر کے خُدا کی راست بازی کے تابِع نہ ہُوئے۔ کیونکہ ہر ایک اِیمان لانے والے کی راست بازی کے لِئے مسِیح شرِیعت کا انجام ہے۔ چُنانچہ مُوسیٰ نے یہ لِکھا ہے کہ جو شخص اُس راست بازی پر عمل کرتا ہے جو شرِیعت سے ہے وہ اُسی کی وجہ سے زِندہ رہے گا۔ مگر جو راست بازی اِیمان سے ہے وہ یُوں کہتی ہے کہ تُو اپنے دِل میں یہ نہ کہہ کہ آسمان پر کَون چڑھے گا؟ (یعنی مسِیح کے اُتار لانے کو)۔ یا گہراؤ میں کَون اُترے گا؟ (یعنی مسِیح کو مُردوں میں سے جِلا کر اُوپر لانے کو)۔ بلکہ کیا کہتی ہے؟ یہ کہ کلام تیرے نزدِیک ہے بلکہ تیرے مُنہ اور تیرے دِل میں ہے۔ یہ وُہی اِیمان کا کلام ہے جِس کی ہم مُنادی کرتے ہیں۔ کہ اگر تُو اپنی زُبان سے یِسُوعؔ کے خُداوند ہونے کا اِقرار کرے اور اپنے دِل سے اِیمان لائے کہ خُدا نے اُسے مُردوں میں سے جِلایا تو نجات پائے گا۔ کیونکہ راست بازی کے لِئے اِیمان لانا دِل سے ہوتا ہے اور نجات کے لِئے اِقرار مُنہ سے کِیا جاتا ہے۔ چُنانچہ کِتابِ مُقدّس یہ کہتی ہے کہ جو کوئی اُس پر اِیمان لائے گا وہ شرمِندہ نہ ہو گا۔