YouVersion Logo
تلاش

نحمیاہ 1:9-38

نحمیاہ 1:9-38 ہولی بائبل کا اردو جیو ورژن (URDGVU)

اُسی مہینے کے 24ویں دن اسرائیلی روزہ رکھنے کے لئے جمع ہوئے۔ ٹاٹ کے لباس پہنے ہوئے اور سر پر خاک ڈال کر وہ یروشلم آئے۔ اب وہ تمام غیریہودیوں سے الگ ہو کر اُن گناہوں کا اقرار کرنے کے لئے حاضر ہوئے جو اُن سے اور اُن کے باپ دادا سے سرزد ہوئے تھے۔ تین گھنٹے وہ کھڑے رہے، اور اُس دوران رب اُن کے خدا کی شریعت کی تلاوت کی گئی۔ پھر وہ رب اپنے خدا کے سامنے منہ کے بل جھک کر مزید تین گھنٹے اپنے گناہوں کا اقرار کرتے رہے۔ یشوع، بانی، قدمی ایل، سبنیاہ، بُنی، سربیاہ، بانی اور کنانی جو لاوی تھے ایک چبوترے پر کھڑے ہوئے اور بلند آواز سے رب اپنے خدا سے دعا کی۔ پھر یشوع، قدمی ایل، بانی، حسبنیاہ، سربیاہ، ہودیاہ، سبنیاہ اور فتحیاہ جو لاوی تھے بول اُٹھے، ”کھڑے ہو کر رب اپنے خدا کی جو ازل سے ابد تک ہے ستائش کریں!“ اُنہوں نے دعا کی، ”تیرے جلالی نام کی تمجید ہو، جو ہر مبارک بادی اور تعریف سے کہیں بڑھ کر ہے۔ اے رب، تُو ہی واحد خدا ہے! تُو نے آسمان کو ایک سرے سے دوسرے سرے تک اُس کے لشکر سمیت خلق کیا۔ زمین اور جو کچھ اُس پر ہے، سمندر اور جو کچھ اُس میں ہے سب کچھ تُو ہی نے بنایا ہے۔ تُو نے سب کو زندگی بخشی ہے، اور آسمانی لشکر تجھے سجدہ کرتا ہے۔ تُو ہی رب اور وہ خدا ہے جس نے ابرام کو چن لیا اور کسدیوں کے شہر اُور سے باہر لا کر ابراہیم کا نام رکھا۔ تُو نے اُس کا دل وفادار پایا اور اُس سے عہد باندھ کر وعدہ کیا، ’مَیں تیری اولاد کو کنعانیوں، حِتّیوں، اموریوں، فرِزّیوں، یبوسیوں اور جرجاسیوں کا ملک عطا کروں گا۔‘ اور تُو اپنے وعدے پر پورا اُترا، کیونکہ تُو قابلِ اعتماد اور عادل ہے۔ تُو نے ہمارے باپ دادا کے مصر میں بُرے حال پر دھیان دیا، اور بحرِ قُلزم کے کنارے پر مدد کے لئے اُن کی چیخیں سنیں۔ تُو نے الٰہی نشانوں اور معجزوں سے فرعون، اُس کے افسروں اور اُس کے ملک کی قوم کو سزا دی، کیونکہ تُو جانتا تھا کہ مصری ہمارے باپ دادا سے کیسا گستاخانہ سلوک کرتے رہے ہیں۔ یوں تیرا نام مشہور ہوا اور آج تک یاد رہا ہے۔ قوم کے دیکھتے دیکھتے تُو نے سمندر کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا، اور وہ خشک زمین پر چل کر اُس میں سے گزر سکے۔ لیکن اُن کا تعاقب کرنے والوں کو تُو نے متلاطم پانی میں پھینک دیا، اور وہ پتھروں کی طرح سمندر کی گہرائیوں میں ڈوب گئے۔ دن کے وقت تُو نے بادل کے ستون سے اور رات کے وقت آگ کے ستون سے اپنی قوم کی راہنمائی کی۔ یوں وہ راستہ اندھیرے میں بھی روشن رہا جس پر اُنہیں چلنا تھا۔ تُو کوہِ سینا پر اُتر آیا اور آسمان سے اُن سے ہم کلام ہوا۔ تُو نے اُنہیں صاف ہدایات اور قابلِ اعتماد احکام دیئے، ایسے قواعد جو اچھے ہیں۔ تُو نے اُنہیں سبت کے دن کے بارے میں آگاہ کیا، اُس دن کے بارے میں جو تیرے لئے مخصوص و مُقدّس ہے۔ اپنے خادم موسیٰ کی معرفت تُو نے اُنہیں احکام اور ہدایات دیں۔ جب وہ بھوکے تھے تو تُو نے اُنہیں آسمان سے روٹی کھلائی، اور جب پیاسے تھے تو تُو نے اُنہیں چٹان سے پانی پلایا۔ تُو نے حکم دیا، ’جاؤ، ملک میں داخل ہو کر اُس پر قبضہ کر لو، کیونکہ مَیں نے ہاتھ اُٹھا کر قَسم کھائی ہے کہ تمہیں یہ ملک دوں گا۔‘ افسوس، ہمارے باپ دادا مغرور اور ضدی ہو گئے۔ وہ تیرے احکام کے تابع نہ رہے۔ اُنہوں نے تیری سننے سے انکار کیا اور وہ معجزات یاد نہ رکھے جو تُو نے اُن کے درمیان کئے تھے۔ وہ یہاں تک اَڑ گئے کہ اُنہوں نے ایک راہنما کو مقرر کیا جو اُنہیں مصر کی غلامی میں واپس لے جائے۔ لیکن تُو معاف کرنے والا خدا ہے جو مہربان اور رحیم، تحمل اور شفقت سے بھرپور ہے۔ تُو نے اُنہیں ترک نہ کیا، اُس وقت بھی نہیں جب اُنہوں نے اپنے لئے سونے کا بچھڑا ڈھال کر کہا، ’یہ تیرا خدا ہے جو تجھے مصر سے نکال لایا۔‘ اِس قسم کا سنجیدہ کفر وہ بکتے رہے۔ لیکن تُو بہت رحم دل ہے، اِس لئے تُو نے اُنہیں ریگستان میں نہ چھوڑا۔ دن کے وقت بادل کا ستون اُن کی راہنمائی کرتا رہا، اور رات کے وقت آگ کا ستون وہ راستہ روشن کرتا رہا جس پر اُنہیں چلنا تھا۔ نہ صرف یہ بلکہ تُو نے اُنہیں اپنا نیک روح عطا کیا جو اُنہیں تعلیم دے۔ جب اُنہیں بھوک اور پیاس تھی تو تُو اُنہیں مَن کھلانے اور پانی پلانے سے باز نہ آیا۔ چالیس سال وہ ریگستان میں پھرتے رہے، اور اُس پورے عرصے میں تُو اُن کی ضروریات کو پورا کرتا رہا۔ اُنہیں کوئی بھی کمی نہیں تھی۔ نہ اُن کے کپڑے گھس کر پھٹے اور نہ اُن کے پاؤں سوجے۔ تُو نے ممالک اور قومیں اُن کے حوالے کر دیں، مختلف علاقے یکے بعد دیگرے اُن کے قبضے میں آئے۔ یوں وہ سیحون بادشاہ کے ملک حسبون اور عوج بادشاہ کے ملک بسن پر فتح پا سکے۔ اُن کی اولاد تیری مرضی سے آسمان پر کے ستاروں جیسی بےشمار ہوئی، اور تُو اُنہیں اُس ملک میں لایا جس کا وعدہ تُو نے اُن کے باپ دادا سے کیا تھا۔ وہ ملک میں داخل ہو کر اُس کے مالک بن گئے۔ تُو نے کنعان کے باشندوں کو اُن کے آگے آگے زیر کر دیا۔ ملک کے بادشاہ اور قومیں اُن کے قبضے میں آ گئیں، اور وہ اپنی مرضی کے مطابق اُن سے نپٹ سکے۔ قلعہ بند شہر اور زرخیز زمینیں تیری قوم کے قابو میں آ گئیں، نیز ہر قسم کی اچھی چیزوں سے بھرے گھر، تیار شدہ حوض، انگور کے باغ اور کثرت کے زیتون اور دیگر پھل دار درخت۔ وہ جی بھر کر کھانا کھا کر موٹے ہو گئے اور تیری برکتوں سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ اِس کے باوجود وہ تابع نہ رہے بلکہ سرکش ہوئے۔ اُنہوں نے اپنا منہ تیری شریعت سے پھیر لیا۔ اور جب تیرے نبی اُنہیں سمجھا سمجھا کر تیرے پاس واپس لانا چاہتے تھے تو اُنہوں نے بڑے کفر بک کر اُنہیں قتل کر دیا۔ یہ دیکھ کر تُو نے اُنہیں اُن کے دشمنوں کے حوالے کر دیا جو اُنہیں تنگ کرتے رہے۔ جب وہ مصیبت میں پھنس گئے تو وہ چیخیں مار مار کر تجھ سے فریاد کرنے لگے۔ اور تُو نے آسمان پر سے اُن کی سنی۔ بڑا ترس کھا کر تُو نے اُن کے پاس ایسے لوگوں کو بھیج دیا جنہوں نے اُنہیں دشمنوں کے ہاتھ سے چھڑایا۔ لیکن جوں ہی اسرائیلیوں کو سکون ملتا وہ دوبارہ ایسی حرکتیں کرنے لگتے جو تجھے ناپسند تھیں۔ نتیجے میں تُو اُنہیں دوبارہ اُن کے دشمنوں کے ہاتھ میں چھوڑ دیتا۔ جب وہ اُن کی حکومت کے تحت پِسنے لگتے تو وہ ایک بار پھر چلّا چلّا کر تجھ سے التماس کرنے لگتے۔ اِس بار بھی تُو آسمان پر سے اُن کی سنتا۔ ہاں، تُو اِتنا رحم دل ہے کہ تُو اُنہیں بار بار چھٹکارا دیتا رہا! تُو اُنہیں سمجھاتا رہا تاکہ وہ دوبارہ تیری شریعت کی طرف رجوع کریں، لیکن وہ مغرور تھے اور تیرے احکام کے تابع نہ ہوئے۔ اُنہوں نے تیری ہدایات کی خلاف ورزی کی، حالانکہ اِن ہی پر چلنے سے انسان کو زندگی حاصل ہوتی ہے۔ لیکن اُنہوں نے پروا نہ کی بلکہ اپنا منہ تجھ سے پھیر کر اَڑ گئے اور سننے کے لئے تیار نہ ہوئے۔ اُن کی حرکتوں کے باوجود تُو بہت سالوں تک صبر کرتا رہا۔ تیرا روح اُنہیں نبیوں کے ذریعے سمجھاتا رہا، لیکن اُنہوں نے دھیان نہ دیا۔ تب تُو نے اُنہیں غیرقوموں کے حوالے کر دیا۔ تاہم تیرا رحم سے بھرا دل اُنہیں ترک کر کے تباہ نہیں کرنا چاہتا تھا۔ تُو کتنا مہربان اور رحیم خدا ہے! اے ہمارے خدا، اے عظیم، قوی اور مہیب خدا جو اپنا عہد اور اپنی شفقت قائم رکھتا ہے، اِس وقت ہماری مصیبت پر دھیان دے اور اُسے کم نہ سمجھ! کیونکہ ہمارے بادشاہ، بزرگ، امام اور نبی بلکہ ہمارے باپ دادا اور پوری قوم اسوری بادشاہوں کے پہلے حملوں سے لے کر آج تک سخت مصیبت برداشت کرتے رہے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جو بھی مصیبت ہم پر آئی ہے اُس میں تُو راست ثابت ہوا ہے۔ تُو وفادار رہا ہے، گو ہم قصوروار ٹھہرے ہیں۔ ہمارے بادشاہ اور بزرگ، ہمارے امام اور باپ دادا، اُن سب نے تیری شریعت کی پیروی نہ کی۔ جو احکام اور تنبیہ تُو نے اُنہیں دی اُس پر اُنہوں نے دھیان ہی نہ دیا۔ تُو نے اُنہیں اُن کی اپنی بادشاہی، کثرت کی اچھی چیزوں اور ایک وسیع اور زرخیز ملک سے نوازا تھا۔ توبھی وہ تیری خدمت کرنے کے لئے تیار نہ تھے اور اپنی غلط راہوں سے باز نہ آئے۔ اِس کا انجام یہ ہوا ہے کہ آج ہم اُس ملک میں غلام ہیں جو تُو نے ہمارے باپ دادا کو عطا کیا تھا تاکہ وہ اُس کی پیداوار اور دولت سے لطف اندوز ہو جائیں۔ ملک کی وافر پیداوار اُن بادشاہوں تک پہنچتی ہے جنہیں تُو نے ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہم پر مقرر کیا ہے۔ اب وہی ہم پر اور ہمارے مویشیوں پر حکومت کرتے ہیں۔ اُن ہی کی مرضی چلتی ہے۔ چنانچہ ہم بڑی مصیبت میں پھنسے ہیں۔ یہ تمام باتیں مدِ نظر رکھ کر ہم عہد باندھ کر اُسے قلم بند کر رہے ہیں۔ ہمارے بزرگ، لاوی اور امام دست خط کر کے عہدنامے پر مُہر لگا رہے ہیں۔“

دوسروں تک پہنچائیں
پڑھیں نحمیاہ 9

نحمیاہ 1:9-38 کِتابِ مُقادّس (URD)

پِھر اِسی مہِینے کی چَوبِیسوِیں تارِیخ کو بنی اِسرائیل روزہ رکھ کر اور ٹاٹ اوڑھ کر اور مِٹّی اپنے سر پر ڈال کر اِکٹّھے ہُوئے۔ اور اِسرائیل کی نسل کے لوگ سب پردیسِیوں سے الگ ہو گئے اور کھڑے ہو کر اپنے گُناہوں اور اپنے باپ دادا کی خطاؤں کا اِقرار کِیا۔ اور اُنہوں نے اپنی اپنی جگہ پر کھڑے ہو کر ایک پہر تک خُداوند اپنے خُدا کی شرِیعت کی کِتاب پڑھی اور دُوسرے پہر میں اِقرار کر کے خُداوند اپنے خُدا کو سِجدہ کرتے رہے۔ تب قدمی ایل یشُوع اور بانی اور سبنیاؔہ اور بُنّی اور سرِبیاؔہ اور بانی اور کنعانی نے لاویوں کی سِیڑھیوں پر کھڑے ہو کر بُلند آواز سے خُداوند اپنے خُدا سے فریاد کی۔ پِھر یشُوع اور قدمی ایل اور بانی اور حسبنیاؔہ اور سرِبیاؔہ اور ہُودیاؔہ اور سبنیاؔہ اور فتحیاہ لاویوں نے کہا کھڑے ہو جاؤ اور کہو خُداوند ہمارا خُدا ازل سے ابد تک مُبارک ہے تیرا جلالی نام مُبارک ہو جو سب حمد و تعرِیف سے بالا ہے۔ تُو ہی اکیلا خُداوند ہے۔ تُو نے آسمان اور آسمانوں کے آسمان کو اور اُن کے سارے لشکر کو اور زمِین کو اور جو کُچھ اُس پر ہے اور سمُندروں کو اور جو کُچھ اُن میں ہے بنایا اور تو اُن سبھوں کا پروردِگار ہے اور آسمان کا لشکر تُجھے سِجدہ کرتا ہے۔ تُو وہ خُداوند خُدا ہے جِس نے ابرامؔ کو چُن لِیا اور اُسے کسدیوں کے اُور سے نِکال لایا اور اُس کا نام ابرہامؔ رکھّا۔ تُو نے اُس کا دِل اپنے حضُور وفادار پایا اور کنعانیوں اور حتّیوں اور امُوریوں اور فرِزّیوں اور یبُوسیوں اور جرجاسیوں کا مُلک دینے کا عہد اُس سے باندھا تاکہ اُسے اُس کی نسل کو دے اور تُو نے اپنے سُخن پُورے کِئے کیونکہ تُو صادِق ہے۔ اور تُو نے مِصرؔ میں ہمارے باپ دادا کی مُصِیبت پر نظر کی اور بحرِ قُلزؔم کے کِنارے اُن کی فریاد سُنی۔ اور فرِعونؔ اور اُس کے سب نَوکروں اور اُس کے مُلک کی سب رعیّت پر نِشان اور عجائِب کر دِکھائے کیونکہ تُو جانتا تھا کہ وہ غرُور کے ساتھ اُن سے پیش آئے سو تیرا بڑا نام ہُؤا جَیسا آج ہے۔ اور تُو نے اُن کے آگے سمُندر کو دو حِصّے کِیا اَیسا کہ وہ سمُندر کے بِیچ سُوکھی زمِین پر ہو کر چلے اور تُو نے اُن کا پِیچھا کرنے والوں کو گہراؤ میں ڈالا جَیسا پتّھر سمُندر میں پھینکا جاتا ہے۔ اور تُو نے دِن کو بادل کے سُتُون میں ہو کر اُن کی راہنُمائی کی اور رات کو آگ کے سُتُون میں تاکہ جِس راستے اُن کو چلنا تھا اُس میں اُن کو رَوشنی مِلے۔ اور تُو کوہِ سِینا پر اُتر آیا اور تُو نے آسمان پر سے اُن کے ساتھ باتیں کِیں اور راست احکام اور سچّے قانُون اور اچھّے آئِین و فرمان اُن کو دِئے۔ اور اُن کو اپنے مُقدّس سبت سے واقِف کِیا اور اپنے بندہ مُوسیٰ کی معرفت اُن کو احکام اور آئِین اور شرِیعت دی۔ اور تُو نے اُن کی بُھوک مِٹانے کو آسمان پر سے روٹی دی اور اُن کی پِیاس بُجھانے کو چٹان میں سے اُن کے لِئے پانی نِکالا اور اُن کو فرمایا کہ وہ جا کر اُس مُلک پر قبضہ کریں جِس کو اُن کو دینے کی تُو نے قَسم کھائی تھی۔ لیکن اُنہوں نے اور ہمارے باپ دادا نے گھمنڈ کِیا اور گردن کش بنے اور تیرے حُکموں کو نہ مانا۔ اور فرمانبرداری سے اِنکار کِیا اور تیرے عجائِب کو جو تُو نے اُن کے درمِیان کِئے یاد نہ رکھّا بلکہ گردن کش بنے اور اپنی بغاوت میں اپنے لِئے ایک سردار مُقرّر کِیا تاکہ اپنی غُلامی کی طرف لَوٹ جائیں پر تُو وہ خُدا ہے جو رحِیم و کرِیم مُعاف کرنے کو تیّار اور قہر کرنے میں دِھیما اور شفقت میں غنی ہے۔ سو تُو نے اُن کو ترک نہ کِیا۔ پر جب اُنہوں نے اپنے لِئے ڈھالا ہُؤا بچھڑا بنا کر کہا یہ تیرا خُدا ہے جو تُجھے مُلکِ مِصرؔ سے نِکال لایا اور یُوں غُصّہ دِلانے کے بڑے بڑے کام کِئے۔ تَو بھی تُو نے اپنی گُوناگُون رحمتوں سے اُن کو بیابان میں چھوڑ نہ دِیا۔ دِن کو بادل کا سُتُون اُن کے اُوپر سے دُور نہ ہُؤا تاکہ راستہ میں اُن کی راہنُمائی کرے اور نہ رات کو آگ کا سُتُون دُور ہُؤا تاکہ وہ اُن کو روشنی اور وہ راستہ دِکھائے جِس سے اُن کو چلنا تھا۔ اور تُو نے اپنی نیک رُوح بھی اُن کی تربِیّت کے لِئے بخشی اور منّ کو اُن کے مُنہ سے نہ روکا اور اُن کو پِیاس بُجھانے کو پانی دِیا۔ چالِیس برس تک تُو بیابان میں اُن کی پرورِش کرتا رہا۔ وہ کِسی چِیز کے مُحتاج نہ ہُوئے۔ نہ تو اُن کے کپڑے پُرانے ہُوئے اور نہ اُن کے پاؤں سُوجے۔ اِس کے سِوا تُو نے اُن کو مُملکتیں اور اُمّتیں بخشِیں جِن کو تُو نے اُن کے حِصّوں کے مُطابِق اُن کو بانٹ دِیا۔ چُنانچہ وہ سِیحُوؔن کے مُلک اور شاہِ حسبوؔن کے مُلک اور بسن کے بادشاہ عوج کے مُلک پر قابِض ہُوئے۔ اور تُو نے اُن کی اَولاد کو بڑھا کر آسمان کے سِتاروں کی مانِند کر دِیا اور اُن کو اُس مُلک میں لایا جِس کی بابت تُو نے اُن کے باپ دادا سے کہا تھا کہ وہ جا کر اُس پر قبضہ کریں۔ سو اُن کی اَولاد نے آ کر اِس مُلک پر قبضہ کِیا اور تُو نے اُن کے آگے اِس مُلک کے باشِندوں یعنی کنعانیوں کو مغلُوب کِیا اور اُن کو اُن کے بادشاہوں اور اِس مُلک کے لوگوں سمیت اُن کے ہاتھ میں کر دِیا کہ جَیسا چاہیں وَیسا اُن سے کریں۔ سو اُنہوں نے فصِیل دار شہروں اور زرخیز مُلک کو لے لِیا اور وہ سب طرح کے اچّھے مال سے بھرے ہُوئے گھروں اور کھودے ہُوئے کنُوؤں اور بُہت سے انگُورِستانوں اور زَیتُون کے باغوں اور پَھل دار درختوں کے مالِک ہُوئے۔ پِھر وہ کھا کر سیر ہُوئے اور موٹے تازہ ہو گئے اور تیرے بڑے اِحسان سے نِہایت حظ اُٹھایا۔ تَو بھی وہ نافرمان ہو کر تُجھ سے باغی ہُوئے اور اُنہوں نے تیری شرِیعت کو پِیٹھ پِیچھے پھینکا اور تیرے نبیوں کو جو اُن کے خِلاف گواہی دیتے تھے تاکہ اُن کو تیری طرف پِھرا لائیں قتل کِیا اور اُنہوں نے غُصّہ دِلانے کے بڑے بڑے کام کِئے۔ اِس لِئے تُو نے اُن کو اُن کے دُشمنوں کے ہاتھ میں کر دِیا جِنہوں نے اُن کو ستایا اور اپنے دُکھ کے وقت میں جب اُنہوں نے تُجھ سے فریاد کی تو تُو نے آسمان پر سے سُن لِیا اور اپنی گُوناگُون رحمتوں کے مُطابِق اُن کو چُھڑانے والے دِئے جِنہوں نے اُن کو اُن کے دُشمنوں کے ہاتھ سے چُھڑایا۔ لیکن جب اُن کو آرام مِلا تو اُنہوں نے پِھر تیرے آگے بدکاری کی اِس لِئے تُو نے اُن کو اُن کے دُشمنوں کے قبضہ میں چھوڑ دِیا سو وہ اُن پر مُسلّط رہے تَو بھی جب وہ رجُوع لائے اور تُجھ سے فریاد کی تو تُو نے آسمان پر سے سُن لِیا اور اپنی رحمتوں کے مُطابِق اُن کو بار بار چُھڑایا۔ اور تُو نے اُن کے خِلاف گواہی دی تاکہ اپنی شرِیعت کی طرف اُن کو پھیر لائے پر اُنہوں نے گھمنڈ کِیا اور تیرے فرمان نہ مانے بلکہ تیرے اِحکام کے برخِلاف گُناہ کِیا (جِن کو اگر کوئی مانے تو اُن کے سبب سے جِیتا رہے گا) اور اپنے کندھے کو ہٹا کر گردن کش بن گئے اور نہ سُنا۔ تَو بھی تُو بُہت برسوں تک اُن کی برداشت کرتا رہا اور اپنی رُوح سے اپنے نبیوں کی معرفت اُن کے خِلاف گواہی دیتا رہا تَو بھی اُنہوں نے کان نہ لگایا اِس لِئے تُو نے اُن کو اَور مُلکوں کے لوگوں کے ہاتھ میں کر دِیا۔ باوُجُود اِس کے تُو نے اپنی گُوناگُون رحمتوں کے باعِث اُن کو نابُود نہ کر دِیا اور نہ اُن کو ترک کِیا کیونکہ تُو رحِیم و کرِیم خُدا ہے۔ سو اب اَے ہمارے خُدا بزُرگ اور قادِر و مُہِیب خُدا جو عہد و رحمت کو قائِم رکھتا ہے وہ دُکھ جو ہم پر اور ہمارے بادشاہوں پر اور ہمارے سرداروں اور ہمارے کاہِنوں پر اور ہمارے نبِیوں اور ہمارے باپ دادا پر اور تیرے سب لوگوں پر اسُور کے بادشاہوں کے زمانہ سے آج تک پڑا ہے سو تیرے حضُور ہلکا نہ معلُوم ہو۔ تَو بھی جو کُچھ ہم پر آیا ہے اُس سب میں تُو عادِل ہے کیونکہ تُو سچّائی سے پیش آیا پر ہم نے شرارت کی۔ اور ہمارے بادشاہوں اور سرداروں اور ہمارے کاہِنوں اور باپ دادا نے نہ تو تیری شرِیعت پر عمل کِیا اور نہ تیرے احکام اور شہادتوں کو مانا جِن سے تُو اُن کے خِلاف گواہی دیتا رہا۔ کیونکہ اُنہوں نے اپنی مُملکت میں اور تیرے بڑے اِحسان کے وقت جو تُو نے اُن پر کِیا اور اِس وسِیع اور زرخیز مُلک میں جو تُو نے اُن کے حوالہ کر دِیا تیری عِبادت نہ کی اور نہ وہ اپنی بدکارِیوں سے باز آئے۔ دیکھ آج ہم غُلام ہیں بلکہ اُسی مُلک میں جو تُو نے ہمارے باپ دادا کو دِیا کہ اُس کا پَھل اور پَیداوار کھائیں سو دیکھ ہم اُسی میں غُلام ہیں۔ وہ اپنی کثِیر پَیداوار اُن بادشاہوں کو دیتا ہے جِن کو تُو نے ہمارے گُناہوں کے سبب سے ہم پر مُسلّط کِیا ہے وہ ہمارے جِسموں اور ہماری مواشی پر بھی جَیسا چاہتے ہیں اِختیار رکھتے ہیں اور ہم سخت مُصِیبت میں ہیں۔ اِن سب باتوں کے سبب سے ہم سچّا عہد کرتے اور لِکھ بھی دیتے ہیں اور ہمارے اُمرا اور ہمارے لاوی اور ہمارے کاہِن اُس پر مُہر کرتے ہیں۔

دوسروں تک پہنچائیں
پڑھیں نحمیاہ 9