مرقس 27:15-47
مرقس 27:15-47 اُردو ہم عصر ترجُمہ (UCV)
اُنہُوں نے دو ڈاکوؤں کو بھی یِسوعؔ کے ساتھ مصلُوب کیا، ایک کو آپ کے داہنی طرف اَور دُوسرے کو بائیں طرف۔ اِس طرح کِتاب مُقدّس کا یہ نوشتہ پُورا ہُوا کہ وہ بدکاروں کے ساتھ شُمار کیا گیا۔ وہاں سے گزرنے والے سَب لوگ سَر ہلا ہلا کر حُضُور کو لَعن طَعن کرتے اَور کہتے تھے، ”ارے بیت المُقدّس کو ڈھا کر تین دِن میں اِسے پھر سے بنانے والے، اَب صلیب سے نیچے اُتر آ اَور اَپنے آپ کو بچا!“ اِسی طرح اہم کاہِن اَور شَریعت کے عالِم مِل کر آپَس میں یِسوعؔ کی ہنسی اُڑاتے ہویٔے کہتے تھے، ”اِس نے اَوروں کو بچایا، لیکن اَپنے آپ کو نہیں بچا سَکتا! یہ المسیح، اِسرائیلؔ کا بادشاہ، اَب بھی صلیب پر سے نیچے اُتر آئے، تاکہ یہ دیکھ کر ہم ایمان لا سکیں۔“ دو ڈاکُو بھی جو یِسوعؔ کے ساتھ مصلُوب ہُوئے تھے، وہ بھی حُضُور کو لَعن طَعن کر رہے تھے۔ بَارہ بجے، سے لے کر تین بجے تک اُس سارے علاقہ میں اَندھیرا چھایا رہاتھا۔ تین بجے یِسوعؔ بڑی اُونچی آواز سے چِلّائے، ”ایلوئی، ایلوئی، لما شبقتنی؟“ (جِس کا ترجُمہ یہ ہے، ”اَے میرے خُدا! اَے میرے خُدا! آپ نے مُجھے کیوں چھوڑ دیا؟“) جو لوگ پاس کھڑے تھے اُن میں سے بعض نے یہ سُنا تو کہنے لگے، ”یہ تو ایلیّاہ کو پُکارتا ہے۔“ یہ سُن کر ایک شخص دَوڑا اَور اُس نے اِسفَنج کو سِرکہ میں ڈُبویا اَور اُسے سَرکنڈے پر رکھ کر یِسوعؔ کو چُسایا۔ اَور کہا، ”اَب اِسے تنہا چھوڑ دو۔ آؤ دیکھیں کہ ایلیّاہ اِسے صلیب سے نیچے اُتارنے آتے ہیں یا نہیں؟“ لیکن یِسوعؔ نے بڑے زور سے چِلّاکر اَپنی جان دے دی۔ اَور بیت المُقدّس کا پردہ اُوپر سے نیچے تک پھٹ کر دو ٹکڑے ہو گیا۔ ایک فَوجی افسر، جو یِسوعؔ کے سامنے کھڑا تھا، یہ دیکھ کر کہ آپ نے کِس طرح جان دی ہے، وہ پُکار اُٹھا، ”یقیناً یہ شخص خُدا کا بیٹا تھا!“ کیٔی عورتیں دُور سے یہ سَب کُچھ دیکھ رہی تھیں۔ اُن میں مریمؔ مَگدلِینیؔ، چُھوٹے یعقوب اَور یُوسیفؔ کی ماں، مریمؔ اَور سلومؔی تھیں۔ جَب حُضُور صُوبہ گلِیل میں تھے تُو یہ عورتیں آپ کی پیروکار تھیں اَور اُن کی خدمت کیا کرتی تھیں اَور اِس کے علاوہ کیٔی خواتین آپ کے ساتھ یروشلیمؔ سے آئی تھیں۔ چونکہ شام ہو گئی تھی (اَور وہ سَبت سے پہلا یعنی تیّاری کا دِن تھا)۔ ارِمَتِیاؔہ کا شَہری یُوسیفؔ نامی ایک شخص آیا جو عدالتِ عالیہ کا ایک مُعزّز رُکن تھا اَور خُود بھی خُدا کی بادشاہی کا مُنتظر تھا۔ وہ بڑی دِلیری سے پِیلاطُسؔ کے پاس گیا اَور یِسوعؔ کی لاش مانگنے لگا۔ جَب پِیلاطُسؔ کو مَعلُوم ہُوا کہ حُضُور مَر چُکے ہیں تو اُسے تعجُّب ہُوا۔ اَور اُس نے اَپنے فَوجی کپتان کو بُلاکر، پُوچھا کہ یِسوعؔ کو مَرے ہویٔے کتنی دیر ہو چُکی ہے۔ جَب پِیلاطُسؔ کو اَپنے فَوجی کپتان سے حقیقت کا پتا چلا تو اُس نے حُکم دیا کہ حُضُور کی لاش یُوسیفؔ کو دے دی جائے۔ یُوسیفؔ نے ایک مہین سُوتی چادر خریدی، اَور یِسوعؔ کی لاش کو اُتار کر اُس چادر میں کفنایا، اَور لے جا کر ایک قبر میں رکھ دیا جو چٹّان میں، کھودی گئی تھی اَور اُس قبر کے دروازہ پر ایک بڑا سا پتّھر لُڑھکا دیا۔ مریمؔ مَگدلِینیؔ اَور یُوسیسؔ کی ماں، مریمؔ دونوں دیکھ رہی تھیں کہ یِسوعؔ کی لاش کو کہاں رکھا گیا ہے۔
مرقس 27:15-47 ہولی بائبل کا اردو جیو ورژن (URDGVU)
دو ڈاکوؤں کو بھی عیسیٰ کے ساتھ مصلوب کیا گیا، ایک کو اُس کے دہنے ہاتھ اور دوسرے کو اُس کے بائیں ہاتھ۔ [یوں مُقدّس کلام کا وہ حوالہ پورا ہوا جس میں لکھا ہے، ’اُسے مجرموں میں شمار کیا گیا۔‘] جو وہاں سے گزرے اُنہوں نے کفر بک کر اُس کی تذلیل کی اور سر ہلا ہلا کر اپنی حقارت کا اظہار کیا۔ اُنہوں نے کہا، ”تُو نے تو کہا تھا کہ مَیں بیت المُقدّس کو ڈھا کر اُسے تین دن کے اندر اندر دوبارہ تعمیر کر دوں گا۔ اب صلیب پر سے اُتر کر اپنے آپ کو بچا!“ راہنما اماموں اور شریعت کے علما نے بھی عیسیٰ کا مذاق اُڑا کر کہا، ”اِس نے اَوروں کو بچایا، لیکن اپنے آپ کو نہیں بچا سکتا۔ اسرائیل کا یہ بادشاہ مسیح اب صلیب پر سے اُتر آئے تاکہ ہم یہ دیکھ کر ایمان لائیں۔“ اور جن آدمیوں کو اُس کے ساتھ مصلوب کیا گیا تھا اُنہوں نے بھی اُسے لعن طعن کی۔ دوپہر بارہ بجے پورا ملک اندھیرے میں ڈوب گیا۔ یہ تاریکی تین گھنٹوں تک رہی۔ پھر تین بجے عیسیٰ اونچی آواز سے پکار اُٹھا، ”ایلی، ایلی، لما شبقتنی؟“ جس کا مطلب ہے، ”اے میرے خدا، اے میرے خدا، تُو نے مجھے کیوں ترک کر دیا ہے؟“ یہ سن کر پاس کھڑے کچھ لوگ کہنے لگے، ”وہ الیاس نبی کو بُلا رہا ہے۔“ کسی نے دوڑ کر مَے کے سرکے میں ایک اسفنج ڈبویا اور اُسے ڈنڈے پر لگا کر عیسیٰ کو چُسانے کی کوشش کی۔ وہ بولا، ”آؤ ہم دیکھیں، شاید الیاس آ کر اُسے صلیب پر سے اُتار لے۔“ لیکن عیسیٰ نے بڑے زور سے چلّا کر دم چھوڑ دیا۔ اُسی وقت بیت المُقدّس کے مُقدّس ترین کمرے کے سامنے لٹکا ہوا پردہ اوپر سے لے کر نیچے تک دو حصوں میں پھٹ گیا۔ جب عیسیٰ کے مقابل کھڑے رومی افسر نے دیکھا کہ وہ کس طرح مرا تو اُس نے کہا، ”یہ آدمی واقعی اللہ کا فرزند تھا!“ کچھ خواتین بھی وہاں تھیں جو کچھ فاصلے پر اِس کا مشاہدہ کر رہی تھیں۔ اُن میں مریم مگدلینی، چھوٹے یعقوب اور یوسیس کی ماں مریم اور سلومی بھی تھیں۔ گلیل میں یہ عورتیں عیسیٰ کے پیچھے چل کر اُس کی خدمت کرتی رہی تھیں۔ کئی اَور خواتین بھی وہاں تھیں جو اُس کے ساتھ یروشلم آ گئی تھیں۔ یہ سب کچھ جمعہ کو ہوا جو اگلے دن کے سبت کے لئے تیاری کا دن تھا۔ جب شام ہونے کو تھی تو ارمتیہ کا ایک آدمی بنام یوسف ہمت کر کے پیلاطس کے پاس گیا اور اُس سے عیسیٰ کی لاش مانگی۔ (یوسف یہودی عدالتِ عالیہ کا نامور ممبر تھا اور اللہ کی بادشاہی کے آنے کے انتظار میں تھا۔) پیلاطس یہ سن کر حیران ہوا کہ عیسیٰ مر چکا ہے۔ اُس نے رومی افسر کو بُلا کر اُس سے پوچھا کہ کیا عیسیٰ واقعی مر چکا ہے؟ جب افسر نے اِس کی تصدیق کی تو پیلاطس نے یوسف کو لاش دے دی۔ یوسف نے کفن خرید لیا، پھر عیسیٰ کی لاش اُتار کر اُسے کتان کے کفن میں لپیٹا اور ایک قبر میں رکھ دیا جو چٹان میں تراشی گئی تھی۔ آخر میں اُس نے ایک بڑا پتھر لُڑھکا کر قبر کا منہ بند کر دیا۔ مریم مگدلینی اور یوسیس کی ماں مریم نے دیکھ لیا کہ عیسیٰ کی لاش کہاں رکھی گئی ہے۔
مرقس 27:15-47 کِتابِ مُقادّس (URD)
اور اُنہوں نے اُس کے ساتھ دو ڈاکُو ایک اُس کی دہنی اور ایک اُس کی بائِیں طرف مصلُوب کِئے۔ (تب اِس مضمُون کا وہ نوِشتہ کہ وہ بدکاروں میں گِنا گیا پُورا ہُؤا)۔ اور راہ چلنے والے سر ہِلا ہِلا کر اُس پر لَعن طَعن کرتے اور کہتے تھے کہ واہ! مَقدِس کے ڈھانے والے اور تِین دِن میں بنانے والے۔ صلِیب پر سے اُتر کر اپنے تئِیں بچا۔ اِسی طرح سردار کاہِن بھی فقِیہوں کے ساتھ مِل کر آپس میں ٹھٹّھے سے کہتے تھے اِس نے اَوروں کو بچایا۔ اپنے تئِیں نہیں بچا سکتا۔ اِسرائیلؔ کا بادشاہ مسِیح اب صلِیب پر سے اُتر آئے تاکہ ہم دیکھ کر اِیمان لائیں اور جو اُس کے ساتھ مصلُوب ہُوئے تھے وہ اُس پر لَعن طَعن کرتے تھے۔ جب دوپہر ہُوئی تو تمام مُلک میں اندھیرا چھا گیا اور تِیسرے پہر تک رہا۔ اور تِیسرے پہر کو یِسُوعؔ بڑی آواز سے چِلاّیا کہ اِلوہی اِلوہی لما شَبقَتنی؟ جِس کا ترجمہ ہے اَے میرے خُدا! اَے میرے خُدا! تُو نے مُجھے کیوں چھوڑ دِیا؟ جو پاس کھڑے تھے اُن میں سے بعض نے یہ سُن کر کہا دیکھو وہ ایلیّاؔہ کو بُلاتا ہے۔ اور ایک نے دَوڑ کر سپنج کو سِرکہ میں ڈبویا اور سرکنڈے پر رکھ کر اُسے چُسایا اور کہا ٹھہر جاؤ۔ دیکھیں تو ایلیّاؔہ اُسے اُتارنے آتا ہے یا نہیں۔ پِھر یِسُوعؔ نے بڑی آواز سے چِلاّ کر دم دے دِیا۔ اور مَقدِس کا پردہ اُوپر سے نِیچے تک پھٹ کر دو ٹُکڑے ہو گیا۔ اور جو صُوبہ دار اُس کے سامنے کھڑا تھا اُس نے اُسے یُوں دم دیتے ہُوئے دیکھ کر کہا بیشک یہ آدمی خُدا کا بیٹا تھا۔ اور کئی عَورتیں دُور سے دیکھ رہی تِھیں۔ اُن میں مریمؔ مگدلِینی اور چھوٹے یعقُوبؔ اور یوسیس کی ماں مریمؔ اور سلوؔمی تِھیں۔ جب وہ گلِیل میں تھا یہ اُس کے پِیچھے ہو لیتی اور اُس کی خِدمت کرتی تِھیں اور اَور بھی بُہت سی عَورتیں تِھیں جو اُس کے ساتھ یروشلِیم میں آئی تِھیں۔ جب شام ہو گئی تو اِس لِئے کہ تیّاری کا دِن تھا جو سبت سے ایک دِن پہلے ہوتا ہے۔ اَرِمَتیہ کا رہنے والا یُوسفؔ آیا جو عِزّت دار مُشِیر اور خُود بھی خُدا کی بادشاہی کا مُنتظِر تھا اور اُس نے جُرأت سے پِیلاطُسؔ کے پاس جا کر یِسُوعؔ کی لاش مانگی۔ اور پِیلاطُسؔ نے تَعجُّب کِیا کہ وہ اَیسا جلد مَر گیا اور صُوبہ دار کو بُلا کر اُس سے پُوچھا کہ اُس کو مَرے ہُوئے دیر ہو گئی؟ جب صُوبہ دار سے حال معلُوم کر لِیا تو لاش یُوسفؔ کو دِلا دی۔ اُس نے ایک مہِین چادر مول لی اور لاش کو اُتار کر اُس چادر میں کفنایا اور ایک قبر کے اندر جو چٹان میں کھودی گئی تھی رکھّا اور قبر کے مُنہ پر ایک پتّھر لُڑھکا دِیا۔ اور مریمؔ مگدلینی اور یوسیس کی ماں مریمؔ دیکھ رہی تِھیں کہ وہ کہاں رکھّا گیا ہے۔