اعمال 17:5-26 - Compare All Versions
اعمال 17:5-26 UCV (اُردو ہم عصر ترجُمہ)
اِس پر اعلیٰ کاہِن اَور اُس کے سارے ساتھی جو صدُوقیوں کے فرقہ کے تھے حَسد سے بھر گیٔے اَور رسولوں کی مُخالفت کرنے پر اُتر آئے اَور اُنہُوں نے رسولوں کو گِرفتار کروا کر قَیدخانہ میں ڈال دیا۔ لیکن رات کو خُداوؔند کا فرشتہ قَیدخانہ کے دروازے کھول کر رسولوں کو باہر نکال لایا۔ فرشتہ نے اُن سے کہا، ”جاؤ، بیت المُقدّس کے صحن میں کھڑے ہو جاؤ، اَور اِس نئی زندگی کی ساری باتیں لوگوں کو سُناؤ۔“ چنانچہ صُبح ہوتے ہی وہ بیت المُقدّس کے صحن میں جا پہُنچے، اَور جَیسا حُکم مِلا تھا، لوگوں کو تعلیم دینے لگے۔ جَب اعلیٰ کاہِن اَور اُس کے ساتھی وہاں آئے تو اُنہُوں نے مَجلِس عامہ کا اِجلاس طلب کیا جِس میں اِسرائیل کے سارے بُزرگ جمع تھے اَور اُنہُوں نے قَیدخانہ سے رسولوں کو بُلا بھیجا کہ اُنہیں لائیں۔ جَب سپاہی قَیدخانہ میں پہُنچے، تو اُنہُوں نے رسولوں کو وہاں نہ پایا۔ پھر اُنہُوں نے واپس آکر خبر دی، ”ہم نے تو قَیدخانہ کو بڑی حِفاظت سے بند کیا تھا، پہرےداروں کو دروازوں پر کھڑے پایا؛ لیکن جَب ہم نے دروازہ کھولا، تو ہمیں اَندر کویٔی نہیں مِلا۔“ اِس خبر کو سُن کر، بیت المُقدّس کے رہنما اَور اہم کاہِن سَب کے سَب حیران رہ گیٔے، کہ اَب اُن کا کیا اَنجام ہوگا۔ اُسی وقت کسی نے آکر خبر دی، ”دیکھو! وہ آدمی جنہیں تُم نے قَیدخانہ میں ڈالا تھا بیت المُقدّس کے صحنوں میں کھڑے ہوکر لوگوں کو تعلیم دے رہے ہیں۔“ اِس پر، کپتان اَپنے سربراہوں کے ساتھ گیا اَور رسولوں کو پکڑ لایا۔ اُنہُوں نے طاقت کا اِستعمال اِس لیٔے نہیں کیا کہ اُنہیں خدشہ تھا کہ لوگ اُنہیں سنگسار نہ کر دیں۔
اعمال 17:5-26 URDGVU (ہولی بائبل کا اردو جیو ورژن)
پھر امامِ اعظم صدوقی فرقے کے تمام ساتھیوں کے ساتھ حرکت میں آیا۔ حسد سے جل کر اُنہوں نے رسولوں کو گرفتار کر کے عوامی جیل میں ڈال دیا۔ لیکن رات کو رب کا ایک فرشتہ قیدخانے کے دروازوں کو کھول کر اُنہیں باہر لایا۔ اُس نے کہا، ”جاؤ، بیت المُقدّس میں کھڑے ہو کر لوگوں کو اِس نئی زندگی سے متعلق سب باتیں سناؤ۔“ فرشتے کی سن کر رسول صبح سویرے بیت المُقدّس میں جا کر تعلیم دینے لگے۔ اب ایسا ہوا کہ امامِ اعظم اپنے ساتھیوں سمیت پہنچا اور یہودی عدالتِ عالیہ کا اجلاس منعقد کیا۔ اِس میں اسرائیل کے تمام بزرگ شریک ہوئے۔ پھر اُنہوں نے اپنے ملازموں کو قیدخانے میں بھیج دیا تاکہ رسولوں کو لا کر اُن کے سامنے پیش کیا جائے۔ لیکن جب وہ وہاں پہنچے تو پتا چلا کہ رسول جیل میں نہیں ہیں۔ وہ واپس آئے اور کہنے لگے، ”جب ہم پہنچے تو جیل بڑی احتیاط سے بند تھی اور دروازوں پر پہرے دار کھڑے تھے۔ لیکن جب ہم دروازوں کو کھول کر اندر گئے تو وہاں کوئی نہیں تھا!“ یہ سن کر بیت المُقدّس کے پہرے داروں کا کپتان اور راہنما امام بڑی اُلجھن میں پڑ گئے اور سوچنے لگے کہ اب کیا ہو گا؟ اِتنے میں کوئی آ کر کہنے لگا، ”بات سنیں، جن آدمیوں کو آپ نے جیل میں ڈالا تھا وہ بیت المُقدّس میں کھڑے لوگوں کو تعلیم دے رہے ہیں۔“ تب بیت المُقدّس کے پہرے داروں کا کپتان اپنے ملازموں کے ساتھ رسولوں کے پاس گیا اور اُنہیں لایا، لیکن زبردستی نہیں، کیونکہ وہ ڈرتے تھے کہ جمع شدہ لوگ اُنہیں سنگسار نہ کر دیں۔
اعمال 17:5-26 URD (کِتابِ مُقادّس)
پِھر سردار کاہِن اور اُس کے سب ساتھی جو صدُوقیوں کے فِرقہ کے تھے حَسد کے مارے اُٹھے۔ اور رسُولوں کو پکڑ کر عام حوالات میں رکھ دِیا۔ مگر خُداوند کے ایک فرِشتہ نے رات کو قَید خانہ کے دروازے کھولے اور اُنہیں باہر لا کر کہا کہ جاؤ ہَیکل میں کھڑے ہو کر اِس زِندگی کی سب باتیں لوگوں کو سُناؤ۔ وہ یہ سُن کر صُبح ہوتے ہی ہَیکل میں گئے اور تعلِیم دینے لگے مگر سردار کاہِن اور اُس کے ساتِھیوں نے آ کر صدرعدالت والوں اور بنی اِسرائیل کے سب بزُرگوں کو جمع کِیا اور قَید خانہ میں کہلا بھیجا کہ اُنہیں لائیں۔ لیکن پیادوں نے پُہنچ کر اُنہیں قَید خانہ میں نہ پایا اور لَوٹ کر خبر دی۔ کہ ہم نے قَید خانہ کو تو بڑی حِفاظت سے بند کِیا ہُؤا اور پہرے والوں کو دروازوں پر کھڑے پایا مگر جب کھولا تو اندر کوئی نہ مِلا۔ جب ہَیکل کے سردار اور سردار کاہِنوں نے یہ باتیں سُنِیں تو اُن کے بارے میں حَیران ہُوئے کہ اِس کا کیا اَنجام ہو گا۔ اِتنے میں کِسی نے آ کر اُنہیں خبر دی کہ دیکھو۔ وہ آدمی جنہیں تُم نے قَید کِیا تھا ہَیکل میں کھڑے لوگوں کو تعلِیم دے رہے ہیں۔ تب سردار پیادوں کے ساتھ جا کر اُنہیں لے آیا لیکن زبردستی نہیں کیونکہ لوگوں سے ڈرتے تھے کہ ہم کو سنگسار نہ کریں۔