1 شموایلؔ 25:17-30

1 شموایلؔ 25:17-30 UCV

اِسرائیلی کہہ رہے تھے، ”دیکھو، یہ آدمی کیسے باہر نکل کر آتا رہتاہے؟ وہ اِسرائیلیوں کو مُقابلہ کے لیٔے للکارنے آتا ہے اَور ڈُوب مرنے کے لیٔے کہتاہے۔ جو آدمی اُسے قتل کرےگا بادشاہ اُسے بہت سِی دولت دے گا اَور اَپنی بیٹی بھی اُس سے بیاہ دے گا اَور اِسرائیل میں اُس کے باپ کے گھرانے کو محصُول سے مُستثنیٰ قرار دیا جائے گا۔“ داویؔد نے پاس کھڑے ہُوئے لوگوں سے پُوچھا، ”اُس آدمی کے لیٔے کیا کیا جائے گا جو اِس فلسطینی کو مار کر اِسرائیل سے اِس رُسوائی کو دُور کرےگا؟ یہ نامختون فلسطینی کون ہے جو زندہ خُدا کی افواج کو مُقابلہ کے لیٔے للکارتا ہے؟“ اَورجو کچھ وہ کہا کرتے تھے اُنہُوں نے اُس کے سامنے دہرایا اَور اُسے بتایا، ”جو آدمی اُسے قتل کرے اُس کے ساتھ یہ سلُوک کیا جائے گا۔“ جَب داویؔد کے سَب سے بڑے بھایٔی اِلیابؔ نے اُسے اُن آدمیوں کے ساتھ گُفتگو کرتے سُنا تو وہ غُصّہ سے آگ بگُولہ ہو گیا اَور پُوچھا، ”تُم یہاں کیوں آئے ہو؟ اَور وہ تھوڑی سِی بھیڑیں بیابان میں تُم نے کس کے پاس چھوڑیں؟ میں جانتا ہُوں کہ تُم کتنے مغروُر ہو اَور تمہارا دِل کتنا شرارت سے بھرا ہے۔ تُم محض لڑائی دیکھنے آئے ہو۔“ داویؔد نے کہا، ”مَیں نے کیا کیا ہے؟ کیا میں کسی سے بات بھی نہیں کر سَکتا؟“ پھر وہ کسی دُوسرے کی طرف مُڑ گیا اَور اُسی مُعاملہ کے متعلّق پُوچھنے لگا اَور اُن آدمیوں نے اُسے پہلے کی طرح جَواب دیا۔