لُوقا 1:7-17

لُوقا 1:7-17 URD

جب وہ لوگوں کو اپنی سب باتیں سُنا چُکا تو کَفرؔنحُوم میں آیا۔ اور کِسی صُوبہ دار کا نَوکر جو اُس کو عزِیز تھا بِیماری سے مَرنے کو تھا۔ اُس نے یِسُوعؔ کی خبر سُن کر یہُودِیوں کے کئی بزُرگوں کو اُس کے پاس بھیجا اور اُس سے درخواست کی کہ آ کر میرے نَوکر کو اچھّا کر۔ وہ یِسُوعؔ کے پاس آئے اور اُس کی بڑی مِنّت کر کے کہنے لگے کہ وہ اِس لائِق ہے کہ تُو اُس کی خاطِر یہ کرے۔ کیونکہ وہ ہماری قَوم سے مُحبّت رکھتا ہے اور ہمارے عِبادت خانہ کو اُسی نے بنوایا۔ یِسُوعؔ اُن کے ساتھ چلا مگر جب وہ گھر کے قرِیب پُہنچا تو صُوبہ دار نے بعض دوستوں کی معرفت اُسے یہ کہلا بھیجا کہ اَے خُداوند تکلِیف نہ کر کیونکہ مَیں اِس لائِق نہیں کہ تُو میری چھت کے نِیچے آئے۔ اِسی سبب سے مَیں نے اپنے آپ کو بھی تیرے پاس آنے کے لائِق نہ سمجھا بلکہ زُبان سے کہہ دے تو میرا خادِم شِفا پائے گا۔ کیونکہ مَیں بھی دُوسرے کے اِختیار میں ہُوں اور سِپاہی میرے ماتحت ہیں اور جب ایک سے کہتا ہُوں جا تو وہ جاتا ہے اور دُوسرے سے آ تو وہ آتا ہے اور اپنے نَوکر سے کہ یہ کر تو وہ کرتا ہے۔ یِسُوعؔ نے یہ سُن کر اُس پر تعجُّب کِیا اور پِھر کر اُس بِھیڑ سے جو اُس کے پِیچھے آتی تھی کہا مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ مَیں نے اَیسا اِیمان اِسرائیلؔ میں بھی نہیں پایا۔ اور بھیجے ہُوئے لوگوں نے گھر میں واپس آ کر اُس نَوکر کو تندرُست پایا۔ تھوڑے عرصہ کے بعد اَیسا ہُؤا کہ وہ نائِین نام ایک شہر کو گیا اور اُس کے شاگِرد اور بُہت سے لوگ اُس کے ہمراہ تھے۔ جب وہ شہر کے پھاٹک کے نزدِیک پُہنچا تو دیکھو ایک مُردہ کو باہر لِئے جاتے تھے۔ وہ اپنی ماں کا اِکلَوتا بیٹا تھا اور وہ بیوہ تھی اور شہر کے بُہتیرے لوگ اُس کے ساتھ تھے۔ اُسے دیکھ کر خُداوند کو ترس آیا اور اُس سے کہا مت رو۔ پِھر اُس نے پاس آ کر جِنازہ کو چُھؤا اور اُٹھانے والے کھڑے ہو گئے اور اُس نے کہا اَے جوان مَیں تُجھ سے کہتا ہُوں اُٹھ۔ وہ مُردہ اُٹھ بَیٹھا اور بولنے لگا اور اُس نے اُسے اُس کی ماں کو سَونپ دِیا۔ اور سب پر دہشت چھا گئی اور وہ خُدا کی تمجِید کر کے کہنے لگے کہ ایک بڑا نبی ہم میں برپا ہُؤا ہے اور خُدا نے اپنی اُمّت پر توجُّہ کی ہے۔ اور اُس کی نِسبت یہ خبر سارے یہُودیہ اور تمام گِرد و نواح میں پَھیل گئی۔