عزرا 1:7-10

عزرا 1:7-10 URD

اِن باتوں کے بعد شاہِ فارِس ارتخششتا کے دَورِ سلطنت میں عزرا بِن سِراؔیاہ بِن عزرؔیاہ بِن خِلقیاہ۔ بِن سلُوم بِن صدُوؔق بِن اخِیطُوؔب۔ بِن امرؔیاہ بِن عزریاؔہ بِن مِرایوؔت۔ بِن زراخیاؔہ بِن عُزّی بِن بُقّی۔ بِن ابِیسُوؔع بِن فِینحاؔس بِن الِیعزر بِن ہارُونؔ سردار کاہِن۔ یِہی عزرا بابل سے گیا اور وہ مُوسیٰ کی شرِیعت میں جِسے خُداوند اِسرائیل کے خُدا نے دِیا تھا ماہِر فقِیہہ تھا اور چُونکہ خُداوند اُس کے خُدا کا ہاتھ اُس پر تھا بادشاہ نے اُس کی سب درخواستیں منظُور کِیں۔ اور بنی اِسرائیل اور کاہِنوں اور لاویوں اور گانے والوں اور دربانوں اور نتِنیم میں سے کُچھ لوگ ارتخششتا بادشاہ کے ساتویں سال یروشلیِم میں آئے۔ اور وہ بادشاہ کی سلطنت کے ساتویں برس کے پانچویں مہِینے یروشلیِم میں پُہنچا۔ کیونکہ پہلے مہِینے کی پہلی تارِیخ کو تو وہ بابل سے چلا اور پانچویں مہِینے کی پہلی تارِیخ کو یروشلیِم میں آ پُہنچا کیونکہ اُس کے خُدا کی شفقت کا ہاتھ اُس پر تھا۔ اِس لِئے کہ عزرا آمادہ ہو گیا تھا کہ خُداوند کی شرِیعت کا طالِب ہو اور اُس پر عمل کرے اور اِسرائیل میں آئِین اور احکام کی تعلِیم دے۔