دانی ایل 36:2-49

دانی ایل 36:2-49 URD

وہ خواب یہ ہے اور اُس کی تعبِیر بادشاہ کے حضُور بیان کرتا ہُوں۔ اَے بادشاہ تُو شاہنشاہ ہے جِس کو آسمان کے خُدا نے بادشاہی و توانائی اور قُدرت و شَوکت بخشی ہے۔ اور جہاں کہِیں بنی آدمؔ سکُونت کرتے ہیں اُس نے مَیدان کے چرِندے اور ہوا کے پرِندے تیرے حوالہ کر کے تُجھ کو اُن سب کا حاکِم بنایا ہے۔ وہ سونے کا سر تُو ہی ہے۔ اور تیرے بعد ایک اَور سلطنت برپا ہو گی جو تُجھ سے چھوٹی ہو گی اور اُس کے بعد ایک اَور سلطنت تانبے کی جو تمام زمِین پر حُکُومت کرے گی۔ اور چَوتھی سلطنت لوہے کی مانِند مضبُوط ہو گی اور جِس طرح لوہا توڑ ڈالتا ہے اور سب چِیزوں پر غالِب آتا ہے ہاں جِس طرح لوہا سب چِیزوں کو ٹُکڑے ٹُکڑے کرتا اور کُچلتا ہے اُسی طرح وہ ٹُکڑے ٹُکڑے کرے گی اور کُچل ڈالے گی۔ اور جو تُو نے دیکھا کہ اُس کے پاؤں اور اُنگلِیاں کُچھ تو کُمہار کی مِٹّی کی اور کُچھ لوہے کی تھِیں سو اُس سلطنت میں تفرِقہ ہو گا مگر جَیسا کہ تُو نے دیکھا کہ اُس میں لوہا مِٹّی سے مِلا ہُؤا تھا اُس میں لوہے کی مضبُوطی ہو گی۔ اور چُونکہ پاؤں کی اُنگلِیاں کُچھ لوہے کی اور کُچھ مِٹّی کی تھِیں اِس لِئے سلطنت کُچھ قَوی اور کُچھ ضعِیف ہو گی۔ اور جَیسا تُو نے دیکھا کہ لوہا مِٹّی سے مِلا ہُؤا تھا وہ بنی آدمؔ سے آمیختہ ہوں گے لیکن جَیسے لوہا مِٹّی سے میل نہیں کھاتا وَیسے ہی وہ بھی باہم میل نہ کھائیں گے۔ اور اُن بادشاہوں کے ایّام میں آسمان کا خُدا ایک سلطنت برپا کرے گا جو تا ابد نیست نہ ہو گی اور اُس کی حُکُومت کِسی دُوسری قَوم کے حوالہ نہ کی جائے گی بلکہ وہ اِن تمام مُملکتوں کو ٹُکڑے ٹُکڑے اور نیست کرے گی اور وُہی ابد تک قائِم رہے گی۔ جَیسا تُو نے دیکھا کہ وہ پتّھر ہاتھ لگائے بغَیر ہی پہاڑ سے کاٹا گیا اور اُس نے لوہے اور تانبے اور مِٹّی اور چاندی اور سونے کو ٹُکڑے ٹُکڑے کِیا خُدا تعالیٰ نے بادشاہ کو وہ کُچھ دِکھایا جو آگے کو ہونے والا ہے اور یہ خواب یقِینی ہے اور اِس کی تعبِیر یقِینی۔ تب نبُوکدؔنضر بادشاہ نے مُنہ کے بل گِر کر دانی ایل کو سِجدہ کِیا اور حُکم دِیا کہ اُسے ہدیہ دیں اور اُس کے سامنے بخُور جلائیں۔ بادشاہ نے دانی ایل سے کہا فی الحقِیقت تیرا خُدا معبُودوں کا معبُود اور بادشاہوں کا خُداوند اور بھیدوں کا کھولنے والا ہے کیونکہ تُو اِس راز کو کھول سکا۔ تب بادشاہ نے دانی ایل کو سرفراز کِیا اور اُسے بُہت سے بڑے بڑے تُحفے عطا کِئے اور اُس کو بابل کے تمام صُوبہ پر فرمانروائی بخشی اور بابل کے تمام حکِیموں پر حُکمرانی عِنایت کی۔ تب دانی ایل نے بادشاہ سے درخواست کی اور اُس نے سدرؔک اور مِیسک اور عبدؔنجُو کو بابل کے صُوبہ کی کار پردازی پر مُقرّر کِیا لیکن دانی ایل بادشاہ کے دربار میں رہا۔